بی جےپی پرانتخابی مہم کیلئے آدھار ڈیٹا کےاستعمال کا الزام

Updated: April 03, 2021, 12:00 PM IST | Agency | Chennai

مدراس ہائی کورٹ نے معاملےکی سنگینی کو تسلیم کیا، آدھار ایجنسی سے جواب طلب

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

  مدراس ہائی کورٹ  نے بی جےپی کی پڈوچیری اکائی کے خلاف داخل کی گئی مفاد عامہ کی پٹیشن(پی آئی ایل) کو سنجیدگی سے لیتے  ہوئے آدھار کارڈ بنانے اور آدھا کاڈیٹا محفوظ  رکھنے والی مرکزی ایجنسی ’’یو آئی ڈی اے آئی‘‘ سے جواب طلب کرلیا ہے۔ پٹیشن میں  الزام  لگایا گیاہے کہ بی جےپی کی پڈوچیری اکائی نے انتخابی مہم کیلئے شہریوں کے آدھار ڈیٹا کا غلط استعمال کیا ہے۔ جمعرا ت کو مدراس ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ’’حالیہ اسمبلی انتخابات کیلئے  چھٹے مدعاعلیہ (بی جےپی ) نے پڈوچیری میں جس طرح انتخابی مہم چلائی ہے اس سے سنگین  خلاف ورزیوں کااظہار ہو رہاہے۔‘‘ عرضی گزار نےالزام لگایا ہے کہ پڈوچیری  میں اُن تمام موبائل نمبروں پر بی جے پی کی انتخابی مہم کے تشہیری پیغامات بھیجے گئے ہیں جو آدھار سے منسلک ہیں جبکہ جو نمبر آدھار سے منسلک نہیں ہیں ان پر یہ پیغام نہیں آئے۔ اس پر چیف جسٹس سنجیب بنرجی اور جسٹس سینتھل کمار رام مورتی نے کہا ہے کہ ’’سیاسی پارٹی  نےبڑی تعداد میں ایس ایم ایس / وائس میسج بھیجے ہیں  جو الیکشن کمیشن کی پیشگی اجازت کے بغیر  الیکٹرانک میڈیا پر انتخابی مہم چلانے کے مترادف ہے۔‘‘ کورٹ نے مزید کہا کہ ’’اس میں مزید سنگین معاملہ شہریوں کی  پرائیویسی کا ہے جس کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔‘‘ 
 کورٹ  نے آدھار سے منسلک نمبرات پر  پیغامات بھیجے جانے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یو آئی ڈی اے آئی کو یہ جواب دینا چاہئے کہ شہریوں  نے جو معلومات پورے اعتماد    اوراس امید کے ساتھ اسے فراہم کی تھی کہ اسے مخفی رکھا جائےگا وہ شاید ٹھیک طرح سے محفوظ نہیں رکھی گئی۔‘‘کورٹ نے کہا کہ یہ الزام بہت کلیدی ہے کہ ان ہی موبائل نمبروں پر پیغامات آئے جو آدھار سے لنک  ہیں۔ کورٹ  نے آدھار کو متنبہ کیا کہ یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کی ذاتی معلومات کو وہ مخفی رکھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK