• Fri, 06 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عمر عبداللہ کا سوال: کیا جموں کی مجوزہ نیشنل لاء یونیورسٹی میں مسلم طلبہ کو داخلہ ملے گا؟

Updated: February 06, 2026, 7:02 PM IST | Jammu

ایوان سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں میں این ایل یو کے قیام پر پر اصرار کرنے سے پہلے، بی جے پی کے قانون سازوں کو خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر ہونے والے داخلوں پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔

Omar Abdullah. Photo: X
عمر عبداللہ۔ تصویر: ایکس

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کے دن جموں میں نیشنل لاء یونیورسٹی (این ایل یو) کے قیام کے مطالبے پر بی جے پی کو عوامی سطح پر سوالات کے کٹہرے میں کھڑا کیا اور پوچھا کہ اگر میرٹ لسٹ میں مسلمان طلبہ غالب رہے تو کیا انہیں وہاں داخلہ لینے اور تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی جائے گی؟ ان کا یہ بیان قانون ساز اسمبلی میں علاقائی امتیازی سلوک اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی کے موضوع پر ہونے والی گرما گرم بحث کے دوران سامنے آئے۔

ایوان سے خطاب کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ جموں میں این ایل یو کے قیام پر پر اصرار کرنے سے پہلے، بی جے پی کے قانون سازوں کو خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر ہونے والے داخلوں پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں کے ایک میڈیکل کالج کے حوالے سے ان کے حالیہ اقدامات نے انصاف کے بارے میں ان کے عزم پر سنگین شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’مہاراشٹر میں التوا کا شکار اقلیتی طلبہ کی اسکالرشپ بحال کی جائے‘‘

’ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج‘ معاملہ کا حوالہ دیتے ہوئے، عمر عبداللہ نے کہا کہ اس ادارے کو فعال ہونے کے باوجود صرف اس لیے بند کر دیا گیا کیونکہ وہاں کی میرٹ لسٹ میں آنے والے طلبہ کی اکثریت مسلمان تھی۔ انہوں نے کہا کہ ”دیگر ریاستوں میں لوگ میڈیکل کالج حاصل کرنے کے لیے لڑتے ہیں۔ یہاں، آپ نے ایک کالج صرف اس لیے بند کر دیا کیونکہ وہاں مسلمان طلبہ پڑھ رہے تھے۔“

نیشنل کانفرنس کے لیڈر نے بی جے پی کے ایم ایل ایز پر زور دیا کہ اگر وہ میڈیکل کالج کو بند کرنے کے بجائے اس کے لیے ’اقلیتی درجہ‘ مانگتے، تو قانونی طور پر ہندو طلبہ کے لیے نشستوں کا بڑا حصہ مل جاتا اور ادارہ بھی چلتا رہتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”ڈاکٹر مریضوں کا علاج کرتے ہیں، مذہب کا نہیں۔ وہاں خرچ ہونے والا پیسہ ضائع نہیں ہوتا۔“

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان: مذہبی اقلیتوں، ناقدین پر غیر قانونی اقدامات سے نشانہ: ہیومن رائٹس واچ

وزیراعلیٰ نے اس معاملے کو ایک اخلاقی امتحان کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے پوچھا کہ ”جموں میں مجوزہ این ایل یو کے داخلے بھی میرٹ کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ میں یہ کیسے یقین کرلوں کہ اگر جموں کی این ایل یو میں مسلمانوں کی اکثریت ہوگئی، تو آپ اسے بند نہیں کریں گے اور ویسا ہی جشن نہیں منائیں گے جیسا آپ نے میڈیکل کالج کے معاملے میں منایا؟“

عمر عبداللہ نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ امتیازی سلوک کا مسئلہ صرف تب اٹھاتی ہے جب اسے سیاسی طور پر فائدہ نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”جب بھی آپ کے پاس پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں ہوتا، آپ جموں کے ساتھ امتیازی سلوک کی بات کرنے لگتے ہیں۔“ وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ حقیقی امتیازی سلوک تو مذہبی آبادی کے تناسب کی بنیاد پر ایک تعلیمی ادارے کو بند کرنے سے ظاہر ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بہار : اسمبلی کے باہر اپوزیشن کا زبردست احتجاج

بی جے پی کے قانون سازوں نے عمر عبداللہ کے سوال کا براہِ راست جواب نہیں دیا، تاہم انہوں نے جموں اور کشمیر دونوں جگہوں پر این ایل یوز کے قیام کے اپنے مطالبے کو دہرایا۔ پارٹی نے پہلے صرف جموں میں این ایل یو کی وکالت کی تھی، لیکن بعد میں اس تنقید کے بعد اپنا موقف تبدیل کرلیا کہ جموں کو ۲۰۱۶ء میں پہلے ہی آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم جیسے ممتاز ادارے مل چکے ہیں، جس پر وادی کی طرف سے کوئی احتجاج نہیں کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK