ایکناتھ شندے کی پارٹی کوراج ٹھاکرے کی پارٹی نے غیرمشروط حمایت دی جبکہ این سی پی (شردپوار) اور کانگریس کا بھی حمایت کا اعلان۔ شیوسینا (ادھوٹھاکرے) کا موقف سخت ،کہا : غداروں سے تعلق نہیں رکھیں گے۔
کے ڈی ایم سی میں شیوسینا(شندے) کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ تصویر: آئی این این
کلیان- ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی) میں اقتدار حاصل کرنےکیلئے شیوسینا (شندے)کی جانب سے کھیلا گیا سیاسی داؤبظاہر کامیاب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ بدھ کو کوکن بھون میں شندے گروپ کے ۵۳ ؍کارپوریٹروں نے باقاعدہ طور پر ایک علاحدہ گروپ تشکیل دیا۔ اسی موقع پر مہاراشٹر نونرمان سینا ( ایم این ایس) کے ۵؍ کارپوریٹروں نے بھی آزاد گروپ قائم کرتے ہوئے شندے گروپ کی کھلے عام حمایت کا اعلان کیا۔اس کے بعد کانگریس اور این سی پی (شرد پوار) کے کارپوریٹروں نے بھی شندے گروپ کی حمایت کردی۔
تفصیلات کے مطابق کوکن بھون میں منعقدہ ایک اہم میٹنگ کے دوران شیوسینا (شندے ) کے ۵۳ ؍ کارپوریٹروں نے باضابطہ طور پر اپنا گروپ تشکیل دے دیا ۔ اس موقع پر وہاں موجود شندے سینا کے کارپوریٹرس اس وقت حیران رہ گئے جب راج ٹھاکرے کی مہاراشٹر نونرمان سینا ( ایم این ایس) کے ۵ ؍ کارپوریٹروں نے بھی اپنا الگ گروپ بنا کر شندے گروپ کو غیر مشروط حمایت دینے کا اعلان کر دیا۔ اس پیش رفت سے کے ڈی ایم سی میں شیوسینا (شندے) کا پلڑا بھاری ہوگیا ہے۔
شندے اور راج کی پارٹی کے لیڈروں کی ملاقات
رکن پارلیمان ڈاکٹر شری کانت شندے اور ایم این ایس لیڈر راجو پاٹل کی موجودگی میں ہونے والی اس ملاقات کو ترقیاتی اتحاد کا نام دیا جا رہا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شری کانت شندے نے کہا کہ یہ اتحاد شہر کی تعمیر و ترقی کیلئے ہے اور اب کے ڈی ایم سی میں شندے سینا کی حکومت بننا یقینی ہے۔ ایم این ایس لیڈر راجو پاٹل کا کہنا ہے کہ کے ڈی ایم سی میں بی جے پی اور شیو سینا (شندے ) کے درمیان جاری رسہ کشی اور جوڑ توڑ کے باعث میئر انتخاب کے دوران گڑبڑ کا اندیشہ تھا۔ لہٰذا سیاسی استحکام برقرار رکھنے کیلئے ہم نے شیو سینا (شندے) کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایم این ایس کا شندے گروپ کے ساتھ آنا ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا کیلئے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے۔ ایم این ایس کی حمایت نے شیوسینا (شندے ) کو وہ بونس پوائنٹس فراہم کر دیے ہیں جس سے ایوان میں اس کی پوزیشن اب پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم ہوگئی ہے۔
سیکولرپارٹیوں کابھی حمایت کا اعلان
ایم این ایس کی غیر مشروط حمایت کے اعلان کے بعد سیکولر پارٹیوں کانگریس اوراین سی پی (شرد پوار) بھی شیو سینا کے حق میں کھل کر سامنے آ گئی ہیں جس سے سیاسی منظرنامہ مزید واضح ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق شیو سینا (شندے)کواین سی پی (شرد) کے کارپوریٹر رمیز منیار اور کانگریس کی کانچن کلکرنی اور ثمینہ شیخ نے بھی حمایت کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
فرقہ پرست پارٹیوں کے خلاف ووٹ دینے والے انگشت بدنداں
رائے دہندگان نے سیکولرپارٹیوں پر اعتماد کرتے ہوئے فرقہ پرستوںکو اقتدار سے دور رکھنے کی غرض سے ان کے امیدواروں کو واضح اکثریت سے کامیاب بنایا۔ تاہم انتخابی نتائج سامنے آتے ہی نظریات اقتدار کی سیاست کے نذر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔میئر کی کرسی حاصل کرنے کیلئے جب شیوسینا (شندے) کو ۹ ؍کارپوریٹروں کی کمی کا سامنا ہوا تو اس خلا کو عوامی مینڈیٹ کے احترام کے بجائے روایتی جوڑ توڑ کی سیاست کے ذریعے پُر کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس سلسلے میں ادھو سینا کے ۲؍ منتخب کارپوریٹروں کو توڑ کر اپنے خیمے میں شامل کیا گیا پھر ایم این ایس کے بعد کانگریس اور این سی پی (شرد پوار) کے حمایت دینے پر رائے دہندگان حیرت زدہ رہ گئے ہیں ۔ جب تصدیق کیلئے نمائندۂ انقلاب نے کانچن کلکرنی سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی تو ان کا فون مسلسل ناٹ ریچیبل آتا رہا جبکہ این سی پی کے رمیز منیار نے بھی اس معاملے پر کوئی واضح اور تسلی بخش موقف اختیار کرنے سے گریز کیا۔
ایسا موقف اختیار نہیں کریں گے جس سے غداروں کو مدد ملے: سنجے راؤت
دریں اثناءکے ڈی ایم سی میں ایم این ایس کا شیوسینا (شندے) کو حمایت دینے پرشیو سینا (یوبی ٹی) کے لیڈر سنجے راؤت نے کہا کہ ’’ ہمارا موقف بالکل واضح اور سخت ہے۔ جنہوں نے مہاراشٹر اور بالاصاحب ٹھاکرے کے ساتھ غداری اور بے وفائی کی ہے، ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے سیاسی تعلقات نہیں رکھے جائیں گے۔ ہم ایسا کوئی موقف اختیار نہیں کریں گے جس سے مہاراشٹر کے غداروں کو مدد ملے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’راج ٹھاکرے بھی اس قسم کے لیڈر نہیں ہیں اس لئے ہمارا موقف واضح ہے۔ کے ڈی ایم سی کا جو معاملہ سامنے آیا ہے جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔‘‘ ان مزیدکا کہنا ہے کہ یہ مقامی سطح کا فیصلہ ہے لیکن اگر پارٹی کی بنیادی پالیسیوں سے انحراف کرتے ہوئے کسی بھی پارٹی کی قیادت متضاد موقف اختیار کر رہی ہو تو پارٹی قیادت کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔راج ٹھاکرے کو ایسے فیصلے لینے والوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔