بی جےپی نے آدتیہ ٹھاکرے اور سنجے راؤت کے نارکو ٹیسٹ کی مانگ کی

Updated: August 11, 2020, 7:37 AM IST | Inquilab News Network | Patna

سشانت سنگھ خود کشی کیس میں  زعفرانی پارٹی بھونڈی سیاست پر اتر آئی، بہار میں  سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوششیں تیز

Aditya Thackeray and Sanjay Raut - Pic : INN
آدتیہ ٹھاکرے اور سنجے راؤت ۔ تصویر : آئی این این

 جواں سال فلم  اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی خود کشی کے معاملے میں  بی جےپی کھل کر بھونڈی سیاست پر اتر آئی ہے  اور بہار میں   اس سانحہ کا سیاسی فائدہ اٹھانے کیلئے سیاسی پارٹیوں میں مقابلہ آرائی کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ 
 اتوار کو سنجے راؤت کے ذریعہ اس معاملے پر اپنے ہفتہ واری کالم میں بی جےپی کو آڑے ہاتھوں   لئے جانے کے بعد بی جے پی نے اب آدتیہ ٹھاکرے اور خود سنجے راؤت کو اس معاملے میں  گھسیٹنے کی کوشش شروع کردی ہے۔  پارٹی کے ترجمان نکھل آنند  نے سشانت سنگھ معاملے کو سی بی آئی کوسونپنے پر مہاراشٹر سرکار کے انکار کو اس کے خوف  سے تعبیر کیا ہے۔  اتوار کواپنے کالم میں سنجے راؤت نے لکھا تھا کہ  ۲۰۰۲ء  کے گجرات  فسادات کی جانچ  سی بی آئی سے کرانے  پر مودی کو اس لئے اعتراض تھا کہ سی بی آئی مرکزی حکومت کے زیر اثر ہوتی ہے۔ راؤت کے مطابق  یہی جوازآج کیوں نہیں پیش کیا جاسکتاہے۔ 
 بہرحال بی جے پی نے  معاملہ سی بی آئی کو سونپنے سے مہاراشٹر سرکار کے انکار کو اس کا خوف قرار دیتے ہوئے ریاستی وزیر آدتیہ ٹھاکرے اور  سنجے راؤت کے نارکو ٹیسٹ کی مانگ کی ہے۔  بی جے پی  نے  راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سے بھی اپنی خاموشی توڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

ایل جےپی کا’’ گدھا جلوس‘‘

  بہار میں بی جےپی کی اتحادی ایل جے پی نے بھی  سشانت سنگھ کی خود کشی کو سیاسی طور پر بھنانے کی کوشش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ  اُدھو ٹھاکرے ،ان کے بیٹے  آدتیہ ٹھاکرے   اور سشانت کی دوست ریا چکرورتی  کے خلاف گدھا جلوس نکالا ہے۔ جنتادل متحدہ  کے ترجمان  سنجے سنگھ  نے بھی مہاراشٹر سرکار کو کٹہرے  میں کھڑا کرتے ہوئے  سوال کیا ہے کہ اُدھو ٹھاکرے سی بی آئی جانچ سے کیوں ڈر رہے ہیں، کیا انہیں سی بی آئی پر بھی بروسہ نہیں رہ گیاہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK