ڈپٹی میونسپل کمشنر رام داس کوکرے کی مداخلت اورکمپنی کی جانب سے تنخواہوں کی جلد ادائیگی کی یقین دہانی پر ہڑتال عارضی طور پر ملتوی کی گئی۔
ناراض ملازمین پوسٹر اور بینر کے ساتھ احتجاج کرتے ہوئے۔ تصویر:آئی این این
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی )کی حدود میں کچرا اٹھانے والی سمیت کمپنی کے ملازمین کی تنخواہیں رک جانے کی وجہ سے ملازمین نے اچانک کام بند ہڑتال کر دی ۔ اس باعث صاف صفائی کے کام ٹھپ پڑنے کے نتیجے میں کئی مقامات پر کچرے کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔ میونسپل حکام کی مداخلت اور جلد تنخواہیں ادا کرنے کی یقین دہانی کے بعد ہڑتال کو عارضی طور پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ تاہم لیبر یونین نے انتباہ دیا ہے کہ اگر ایک دو دن میں تنخواہ نہ ملی تو ایک بھی کچرا گاڑی سڑک پر نہیں آنے دی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق کے ڈی ایم سی کی حدود میں کچرا اٹھانے کا کام کرنے والی سمیت کمپنی کے ملازمین کی تنخواہیں ایک بار پھر رکنے کی وجہ سے ورکرز میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ تنخواہ نہ ملنے کے سبب ملازمین نے بدھ کو اچانک کام بند کر دیا جس کی وجہ سے صبح سے ہی شہر میں کچرا اٹھانے کا پورا نظام ٹھپ ہو گیا۔اس ہڑتال کا براہِ راست اثر شہریوں پر پڑا ہے اور کئی علاقوں میں کچرے کا ڈھیر لگ گیا۔ ڈومبیولی، ٹھاکرلی اور کلیان( مشرق) کے مختلف علاقوں میں صورتحال کافی سنگین ہو گئی ہے جہاں تعفن اور گندگی کی وجہ سے شہریوں کی صحت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔یہ احتجاج پنڈلک مہاترے یونین کی قیادت میں کیا گیا۔
اس کے بعد یونین کے عہدیداروں اور کے ڈی ایم سی کے ڈپٹی میونسپل کمشنر رام داس کوکرے نے سمیت کمپنی کے نمائندوں سے بات چیت کی۔ کمپنی نے جلد ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد ہڑتال عارضی طور پر ختم کر دی گئی۔ یونین نے واضح کیا ہے کہ اگر تنخواہ دینے میں تاخیر برتی گئی تو احتجاج میں شدت لائی جائے گی۔ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ مستقبل میں ہر ماہ کی ۱۰ ؍تاریخ تک تنخواہیں لازمی ادا کی جائیں۔