تیسری صنف سے تعلق رکھنے والی نازنین نے بچپن میں دینی و عصری دونوں تعلیم حاصل کی، ۵؍ پارے حفظ کئے پھر حالات دگرگوں ہوگئے اور اب وہ لیڈیز ڈبے میں خاتون مسافروں کیسامنے دست سوال دراز کرنے پر مجبور ہیں۔
نازنین خان عرف ناز کی تصویر، چہرہ قصداًچھپایا گیا ہے.تصویر:آئی این این
نازنین خان عرف ناز (۲۶؍ سال) ۵؍ پارے کی حافظہ ہیں۔ تیسواں پارہ اور شروع کے چار پارے مدرسہ ومسجد انوار العلوم (اور لیم، ملاڈ) میں ۲۰۱۷ء میں حفظ کئے۔ ان کا تکمیل حفظ کا ارادہ تھا اور اب بھی ہے مگر گھریلو ذمہ داریاں حائل ہیں اسکے باوجود قرآن کریم کی تلاوت اور نمازوں کی پابندی اُن کا معمول ہے۔ آٹھویں جماعت میں پڑھائی کے دوران ہی ناظرہ قرآن کریم پورا کرلیا تھا۔
نمائندہ انقلاب نے راستہ چلتے ہوئے نازنین کو سورۂ یٰسین کی خوش الحانی سے تلاوت کرتے ہوئے سنا تو بڑی حیرت ہوئی۔ اس پر یہ داعیہ پیدا ہوا کہ ان سے مل کر تلاوت اور خوش الحانی کی بابت پوچھا جائے لہٰذا اُنہیں روکا اور بات چیت کی جس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
ناظرہ اچھا ہونے کی وجہ سے نازنین کے نانا مرحوم سعید احمد خان نے، جو متقی، پرہیز گار اور کثرت سے کلام اللہ کی تلاوت کیا کرتے تھے، اُن کی والدہ سے کہہ کر اُنہیں اپنی تربیت میں لے لیا۔ اس طرح چالیس دن تک نانا نے بھی پڑھایا جس سے ناظرہ اور پختہ ہوگیا۔ اس کے بعد اہل خانہ نے حفظ کی رغبت دِلائی۔ مذکورہ مدرسہ ومسجد میں مولانا محمد اسلم (سلطان پوری ) کے پاس حفظ شروع کیا اور پانچ پاروں کے علاوہ سورہ یٰسین اور کچھ دیگر سورتیں یاد کرلیں۔ تیسویں پارہ کی بیشتر سورتیں ناظرہ پڑھنے کے دوران یاد ہوگئی تھیں اس لئے بقول نازنین ’’دوماہ میں، میں نے چار پارے حفظ کرلئے تھے۔‘‘
اس سوال پر کہ پانچوں پارے یادہیں؟ نازنین کا کہنا تھا کہ ’’ پوری طرح سے یاد نہیں رہ گئے ہیں، لیکن بیشتر حصہ یاد ہے، دن میں کسی نہ کسی وقت اس کا اعادہ کرتی ہوں۔ ہر وقت یہ احساس رہتا ہے کہ جتنا یاد کیا ہے وہ بھول نہ جاؤں۔ کام پر جانے کے وقت سورۂ یٰسین کی تلاوت کرتی رہتی ہوں۔‘‘
نازنین کا تعلق بھلے ہی تیسری صنف (مخنث) سے ہو مگر وہ دینی و عصری علوم میں دوسروں سے پیچھے نہیں رہیں۔ انہوںنے مدرسے میں عربی اور اردو پڑھی، کاندیولی (مغرب) لال جی پاڑہ میں واقع راج دیوی ہائی اسکول سے ایس ایس سی اور اِسپلانیڈ کالج سے بی کام فرسٹ ایئر پاس کیا تاہم گھریلو حالات سے نبرد آزمائی جاری رہی۔ ۲۰۰۸ء میں والد کا انتقال ہوگیا جبکہ۱۳؍ ستمبر ۲۰۱۷ء کو مِٹھ چوکی پر خود نازنین ایک حادثے سے دوچار ہوئیں جس میں اُن کا ایک ہاتھ ٹوٹ گیا جس میں آج بھی راڈ ہے۔ اس کے بعد کچھ ایسے حالات پیدا ہوئے کہ اُنہیں والدہ کولے کر ماموں کے گھر سے الگ ہونا پڑا۔ بچپن اورلیم میں گزرا تھا مگر ۲؍ سال سے اعظمی نگر (مالونی ملاڈ) میں رہتی ہیں۔
نازنین نے والدہ کی خدمت گزاری کے لئے خود کو وقف کررکھا ہے۔ ان کی دوبہنیں اور تھیں مگر وہ بچپن ہی میں انتقال کرگئیں۔ بہتر معاش کیلئے نازنین نے کافی کوشش کی، ٹیوشن پڑھایا، کال سینٹر میں کام کیا، بچوں کو عربی پڑھایا، گھر گھر دودھ فروخت کیا اس کے باوجود کبھی اتنی آمدنی نہیں ہوئی کہ بآسانی گزر اوقات ہوسکے اس لئے مجبور ہوکر ٹرین کے لیڈیز ڈبے میں ۲۰۱۹ء سے دست ِ سوال دراز کرنا شروع کیا۔ اس میں بھی اتنی احتیاط کرتی ہیں کہ صرف لیڈیز ڈبے میں چڑھتی ہیں ، صرف ولے پارلے تا سانتاکروز جاتی ہیں اور صرف خاتون مسافروں سے سوال کرتی ہیں۔ پہلے جنرل ڈبے میں بھی مانگتی تھیں مگر ان کا کہنا ہے کہ کچھ مردوں کا پیسے دینے کا انداز نامناسب ہوتا ہے اس لئے اسے ترک کردیا۔‘‘
نازنین کا کہنا ہے کہ ’’اتوار میگا بلاک کے سبب سفر نہیں کرتی ہوں ، بقیہ ایام میں صبح ۱۱؍ بجے کے بعد نکلتی ہوں اور شام کو سوا چھ بجے کی لیڈیز اسپیشل سے واپس آجاتی ہوں۔ چند گھنٹوں کے دوران اتنا مل جاتا ہے کہ مکان کا کرایہ، لائٹ اور پانی کا بل ادا ہوجائے اور چولہا جلتا رہے۔ ‘‘ ایک سوال کے جواب میں نازنین کا کہنا تھا کہ ’’چار سال کی عمر میں گھر والوں کو یہ علم ہوا تھا کہ میرا تعلق تیسری صنف سے ہے مگر والدین یا نانا نانی نے کسی قسم کی تفریق نہیں کی۔ حصولِ علم میں کوئی دشواری نہیں آئی بلکہ قدم قدم پر رہنمائی اور حوصلہ افزائی جاری رہی جس کا نتیجہ ہے کہ میں دینی و عصری علوم حاصل کر سکی، خدا کا شکر ہے کہ آج ایک بیٹے کی طرح میں اپنی والدہ کی خدمت کررہی ہوں۔‘‘مالی فراغت ہوتی تو نازنین حفظ مکمل کرچکی ہوتیں۔ اُنہیں اس کا افسوس ہے مگر یہ عزم بھی ہے کہ آج نہیں تو کل وہ ضرور اپنے اس مشن میں کامیاب ہوں گی۔