Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی جے پی نہیں چاہتی کہ مسلمانوں کے بچے تعلیم حاصل کریں، اسلئے جوہر یونیورسٹی کو منہدم کرنا چاہتی ہے

Updated: July 20, 2026, 10:48 AM IST | Hyderabad

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور حیدرآباد سے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے ہفتے کے روز سہارنپور دورے کے دوران جوہر یونیورسٹی کے معاملے پر اتر پردیش حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

Asaduddin Owaisi. Photo: INN
اسدالدین اویسی۔ تصویر: آئی این این

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور حیدرآباد سے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے ہفتے کے روز سہارنپور دورے کے دوران جوہر یونیورسٹی کے معاملے پر اتر پردیش حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ صرف ایک یونیورسٹی کا معاملہ نہیں، بلکہ مسلم معاشرے کی تعلیم اور مستقبل سے وابستہ سوال ہے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’اگر اس ادارے کو نقصان پہنچایا گیا تو اس کا براہ راست اثر ہزاروں طلبہ کی تعلیم پر پڑے گا۔‘‘ اویسی نے کہا کہ ’’ان کی پارٹی مسلسل عوام کے حقوق اور تعلیم سے متعلق مسائل اٹھاتی رہی ہے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’اتر پردیش میں مسلم آبادی تقریباً۲۰؍ فیصد ہے، لیکن اعلیٰ تعلیم میں ان کی شمولیت بے حد کم ہے۔‘‘اویسی کے مطابق اتر پردیش میں تقریباً۳ء۵؍ سے۳ء۷؍فیصد مسلمان ہی گریجویٹ ہیں جبکہ مسلم برادری کی شرحِ خواندگی تقریباً۵۳؍ سے۵۴؍فیصد کے درمیان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مسلم خواتین کی تعلیمی صورتِ حال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔‘‘ اویسی نے الزام لگایا کہ ’’بی جے پی نہیں چاہتی کہ مسلمانوں کے بچے تعلیم حاصل کریں، اسی لیے وہ جوہر یونیورسٹی کو منہدم کرنا چاہتی ہے۔ جوہر یونیورسٹی میں تقریباً۳؍ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ اگر کسی قسم کا قانونی یا انتظامی مسئلہ ہے تو اس کا حل قانون کے مطابق نکالا جا سکتا ہے، لیکن طلبہ کی تعلیم متاثر نہیں ہونی چاہئے۔‘‘ آئین ہند کے معمار ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا ذکر کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ان سے بھی عوامی نمائندوں کے کردار کے متعلق سوال کیا گیا تھا۔اویسی کے مطابق بابا صاحب نے اس وقت تبصرہ کیا تھا کہ بعض لوگ صرف رسمی کارروائی پوری کرنے کیلئے ہی بولتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات آج بھی سیاسی نظام پر صادق آتی ہے۔ اویسی نے کہا کہ ’’تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی سب سے مضبوط بنیاد ہوتی ہے اور حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کو مضبوط کریں، نہ کہ انہیں تنازعات میں الجھا کر طلبہ کے مستقبل کو متاثر کریں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK