شیوسینا (ادھو) کے ترجمان نے کہا ’’ ارون لکھانی مستقبل میں این سی پی کے کارگزار صدر ہو سکتے ہیں‘‘لکھانی بی جے پی حامی صنعتکار ہیں
سپریہ سلے کے سمدھی ارون لکھانی۔ تصویر:آئی این این
بی جے پی نے آئندہ قانون ساز کونسل کے انتخابات کیلئے اپنے ۱۱؍ امیدواروں کا اعلان کیا ہے، جس میں ناگپور سے مشہور صنعت کار ارون لکھانی کو نامزد کیا گیا ہے۔ چونکہ ارون لکھانی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد ) کی کارگزار صدر سپریا سلے کے ہونے والے سمدھی ہیںاسلئے ان کی امیدواری نے سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ شیوسینا (ادھو) کے رکن اسمبلی سنجے رائوت نے اس معاملے میں طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں ارون لکھانی این سی پی (کون سی یہ انہوں نے نہیں کہا) کے کارگزار صدر ہو سکتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے ( لکھانی کو ٹکٹ ملنے) مہا وکاس اگھاڑی کے اتحاد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
یاد رہے کہ لکھانی کئی سال سے بی جے پی کے وفادار عہدیدار اور صنعتی دنیا میںایک بڑا نام رہے ہیں۔ تاہم، خاندانی اور سیاسی مساوات کی وجہ سے ان کی امیدواری پورے مہاراشٹر میں بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ ایم پی سپریہ سلے کی بیٹی ریوتی سلے اور ارون لکھانی کے بیٹے سارنگ لکھا نی کی شادی طے ہو گئی ہے ۔ اس لئےپوار خاندان اور لکھانی خاندان کے درمیان جلد ہی رشتہ داری ہو جائے گی۔کچھ دن پہلے سلے اور لکھانی دونوں خاندان وزیر اعظم نریندر مودی سے خیر سگالی ملاقات کرنے دہلی گئے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے وزیر اعظم مودی کو ریوتی اور سارنگ کی شادی کی تقریب میں مدعو کیا۔ اس خاندانی دورے کے چند ہی دن بعد، بی جے پی نے قانون ساز کونسل میں ارون لکھانی کو میدان میں اتار ا ہے۔ اس پر کئی لوگوں کی بھنویں تن گئی ہیں۔ اس دوران شیوسینا (ادھو) کے رکن پارلیمان سنجے راؤت نے ارون لکھانی کی امیدواری پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی امیدواری سے مہا وکاس اگھاڑی کے اتحاد میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔ انہوں نے این سی پی پر طنز کیا ’’ قومی امکان ہے کہ، مستقبل میں این سی پی کے کارگزار کی ذمہ داری ارون لکھانی کو سونپی جائے گی۔ ویسے ارون لکھانی کو ٹکٹ بی جے پی نے دیا ہے۔ یہی ان کا نظریہ ہے۔‘‘ جب میڈیا نے رائوت سے پوچھا کہ اگر پارٹی کارکنان نے اس رشتے داری اور بی جے پی کے ٹکٹ پر سوال کیا تو انہیں کیا جواب دیا جائے گا؟ تو سنجے رائوت نے کہا کارکنان کو اس تعلق سے سپریہ سلے سے سوال کرنا چاہئے۔