۷؍جولائی کو شام کے دارالحکومت دمشق میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جب فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون شام کے دورے پر موجود تھے۔
EPAPER
Updated: July 07, 2026, 3:00 PM IST | Damascus
۷؍جولائی کو شام کے دارالحکومت دمشق میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جب فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون شام کے دورے پر موجود تھے۔
۷؍جولائی کو شام کے دارالحکومت دمشق میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جب فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون شام کے دورے پر موجود تھے۔ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد کسی بھی بڑے یورپی یونین لیڈر کا یہ پہلا دورۂ شام قرار دیا جا رہا ہے۔ میکرون کے ہوٹل کے قریب دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا، جس سے شام کی سیاسی منتقلی کے دوران سیکوریٹی سے متعلق نئے خدشات پیدا ہو گئے۔
Multiple explosive devices just detonated near the Damascus hotel where French President Emmanuel Macron is staying for his historic visit to Syria pic.twitter.com/9f79VdEecu
— Emily Schrader - אמילי שריידר امیلی شریدر (@emilykschrader) July 7, 2026
یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈکپ :آسٹریلوی کھلاڑی ٹیٹی ینگی نے اسلام قبول کر لیا
منگل کو دمشق میں اس وقت دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں جب فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اپنے شامی ہم منصب صدراحمد الشرع سے ملاقات کر رہے تھے۔ بتایا گیا کہ جیسے ہی میکرون صدارتی محل میں الشرع سے ملاقات کے لیے داخل ہوئے، دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ اس واقعہ کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں، جن میں دھویں کا ایک بڑا بادل، ایک جلتی ہوئی گاڑی اور سڑک پر خون کے نشانات بھی دکھائی دیتے ہیں۔ فوری طور پر کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، جبکہ ہلاکتوں یا زخمیوں کی تعداد بھی تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔
یہ بھی پڑھئے:زی ۵؍ سے ’’ستلج‘‘ ہٹانے پر کنال کامرا کا سی بی ایف سی پر زبانی حملہس
شامی ذرائع کے مطابق دھماکہ فور سیزنز ہوٹل کے قریب ہوا، جہاں فرانسیسی صدر قیام پذیر تھے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ دھماکے دھماکا خیز مواد کے ذریعے کیے گئے، تاہم اس واقعہ کے بارے میں شامی حکام کی جانب سے خبر شائع ہونے تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔ فرانسیسی صدر کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ صدر ایمانوئل میکرون محفوظ ہیں اور ان کا دورۂ شام معمول کے مطابق جاری ہے۔