• Fri, 18 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی جےپی لیڈ ررام آسرے کشواہا کی ۱۳؍ سال بعد سماجوادی پارٹی میں واپسی

Updated: September 18, 2026, 11:48 AM IST | Agency | Kanpur

۲۰۱۳ء میں مظفر نگر فسادات کے بعدوہ بی جےپی میں شامل ہوگئے تھے،اب’ گھر واپسی‘ پرکہا کہ اکھلیش کے وزیراعلیٰ بننے تک وہ گھر پر نہیں بیٹھیں گے۔

Asre Kushwaha is now with Akhilesh. Photo: INN
آسرےکشواہا اب اکھلیش کے ساتھ ہیں۔ تصویر: آئی این این

یوپی کے سابق وزیر رام آسرے کشواہا نے بی جے پی چھوڑ دی ہے۔ انہوں نے سماجوادی پارٹی (ایس پی) کا دامن تھام لیا ہے۔ تقریباً۱۳؍ سال بعد ان کی سماجوادی پارٹی میں واپسی ہوئی ہے۔ ان کی واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یوپی میں آئندہ اسمبلی انتخابات پر سیاسی ہلچل تیز ہے۔ رام آسرے کشواہا کانپور کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے سیاسی سفر کی شروعات بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سے کی تھی۔۱۹۹۶ء میں وہ بی ایس پی کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ سماجوادی پارٹی میں شامل ہوئے۔ اس دوران انہیں اہم ذمہ داری ملی۔ وہ پارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری بھی رہے۔ انہیں ملائم سنگھ یادو کا قریبی بھی مانا جاتا تھا۔رام آسرے کشواہا طویل عرصے سے اترپردیش کی سیاست میں سرگرم رہے ہیں۔ انہوں نے تنظیم میں بھی کام کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:دکانداروں کا یوپی آئی ادائیگی قبول کرنے سے انکار

حکومت میں بھی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ ان کی سیاسی شناخت او بی سی رہنما کے طور پر رہی ہے۔ ۲۰۱۳ء میںمظفر نگر فسادات کےد وران پارٹی سے الگ موقف اختیار کرنے پرانہیںملائم سنگھ یاد و نے قومی جنرل سیکریٹری کے عہدے سے برطرف کردیا تھاجس کے بعد انہوں نے سماجوادی پارٹی سےتعلقات پوری طرح منقطع کرتے ہوئےبی جےپی کا دامن تھام لیا تھا ۔ سماجوادی میں دوبارہ شمولیت پرانہوں نے کہا کہ سیاست میںعزت واحترام سب سے اہم ہے۔جہاںاحترام ہوگا وہیں رشتہ بھی باقی رہےگا۔ گھر واپسی کے موقع پرانہوں نے کہاکہ وہ اب تک گھر نہیںبیٹھیں گے جب تک اکھلیش یادو دوبارہ وزیر اعلیٰ نہیںبن جاتے۔ اس موقع پر اکھلیش یادو نے کہا کہ ’’آج کے دن بہت ذمہ دار، سینئر، قابل احترام اور معزز رام آسرے کشواہا ہماری پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ ان کے آنے سے پی ڈی اے کی طاقت مزید مضبوط ہوگی۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK