مدراس ہائی کورٹ نے منتخب ارکان اسمبلی کے اپنی نشست سے استعفیٰ دینے، دوسری سیاسی جماعت میں شامل ہونے اور پھر اسی حلقہ سے ضمنی انتخاب لڑنے کے معاملہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا طرزعمل ووٹروں اور ان کے اصل انتخابی مینڈیٹ کی توہین ہے۔
EPAPER
Updated: September 18, 2026, 12:53 PM IST | Agency | Chennai
مدراس ہائی کورٹ نے منتخب ارکان اسمبلی کے اپنی نشست سے استعفیٰ دینے، دوسری سیاسی جماعت میں شامل ہونے اور پھر اسی حلقہ سے ضمنی انتخاب لڑنے کے معاملہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا طرزعمل ووٹروں اور ان کے اصل انتخابی مینڈیٹ کی توہین ہے۔
مدراس ہائی کورٹ نے منتخب ارکان اسمبلی کے اپنی نشست سے استعفیٰ دینے، دوسری سیاسی جماعت میں شامل ہونے اور پھر اسی حلقہ سے ضمنی انتخاب لڑنے کے معاملہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا طرزعمل ووٹروں اور ان کے اصل انتخابی مینڈیٹ کی توہین ہے۔ جسٹس ایس ایم سبرامنیم اور جسٹس کے گووندراجن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کہا کہ اگر کوئی رکن اسمبلی محض دوسری سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر دوبارہ انتخاب لڑنے کیلئےاستعفیٰ دیتا ہے تو یہ جمہوریت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ وہ آئین کے آرٹیکل۳۲۴؍ کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ایسے معاملات کا جائزہ کیوں نہیں لیتا اور اس سلسلہ میں مناسب رہنما اصول کیوں نہیں بناتا۔عدالت ایک پی آئی ایل پر سماعت کر رہی تھی، جو چنئی کے وکیل کے سوتھان نے دائر کی ہے۔ عرضی میں ایسے اقدامات کامطالبہ کیا گیا ہے جن کے ذریعے منتخب نمائندوں کو پارٹی تبدیل کرنے کے بعد استعفیٰ دے کر اسی نشست سے دوبارہ ضمنی انتخاب لڑنے سے روکا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ: سقوطِ حیدرآباد کے عنوان سے اجلاس، حیدرآباد کےمورخین اور ماہرین کا خطاب
عرضی گزار کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل آر سنگاراولن نےعدالت کو بتایا کہ تمل ناڈو میں رواں سال اسمبلی انتخابات کے بعد اے آئی اے ڈی ایم کے کے۶؍ اراکین اسمبلی نےاستعفیٰ دیا اور بعد میں حکمراں ٹی وی کے میں شامل ہوگئے۔ ان میں مرگتھم کمارویل اور پی ستیا بھاما کو ٹی وی کے نے بالترتیب مدورانتکم اور دھاراپورم سے امیدوار بنایا ہے۔ دونوں حلقوں کی نشستیں ان کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی تھیں۔عدالت کوبتایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے فی الحال ان دونوں نشستوں پر ہی ضمنی انتخابات کا اعلان کیا ہے، جبکہ باقی اراکین اسمبلی کے استعفوں سے خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی انتخاب کا اعلان نہیں کیا گیا۔