علی گڑھ میں گزشتہ دو دن سے دکاندار نقد ادائیگی پر زور دے رہے ہیں اور گاہکوں سے کہہ رہے ہیں پیسے لاؤپھر سامان لے جاؤ۔
EPAPER
Updated: September 18, 2026, 11:06 AM IST | Agency | Aligarh
علی گڑھ میں گزشتہ دو دن سے دکاندار نقد ادائیگی پر زور دے رہے ہیں اور گاہکوں سے کہہ رہے ہیں پیسے لاؤپھر سامان لے جاؤ۔
یوپی آئی لین دین پر فیس کے نئے نظام کا اثر یہاں کے بازاروں میں نظر آنے لگا ہے۔ دو دن سے شہر کے مختلف علاقوں میں دکاندارکیو آر کوڈ ہٹانے اورنقد ادائیگی پر زور دیتے ہوئے نظر آ رہےہیں۔ مہاویر گنج میں ایک گروسری اسٹور کے مالک نے گاہکوں سے یہ تک کہہ دیا کہ نقدرقم لے کر آؤ، پھر سامان لے جانا۔ تالا نگری سیکٹروَن میں چائے کے اسٹال والوں اور’دوبے کا پڑاؤ‘ میں پھل فروشوں نے بھی نے یو پی آئی کے ذریعےادائیگی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔درحقیقت۱۵؍اکتوبر سے، مرکزی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ فرد سے تاجرو تک ۲؍ ہزارتک کی یو پی آئی ادائیگی پر فیس نہیںہوگی ، جبکہ اس سے زیادہ پر۴ء۰؍ فیصد مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ(ایم ڈی آر) عائد ہوگا۔ ۷۵؍ ہزار یا اس سے زائد ادائیگی پر۳۰۰؍ تک کی فیس ہے۔جبکہ ایک لاکھ روپے ماہانہ سے کم کی یو پی آئی ادائیگی حاصل کرنے والے کاروباریوں کو اس سے مستثنیٰ کردیا گیا ہے۔ علی گڑھ کے دکانداروں نے اس پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ شہر کے صنعتی تجارتی وفد نے ہنگامی اجلاس میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ اطلاع شہر کے تقریباً تمام بازاروں میں تیزی سے پھیل گئی جس کے بعد دکانوں سے کیو آر کوڈز ہٹانے کا عمل شروع ہوا۔
یہ بھی پڑھئے:عمر خالد کیس: پریانک کھرگے کا مودی اور امیت شاہ سے مقدمہ شروع کرنے کا مطالبہ
تاجروں پر ایم ڈی آر کا بوجھ پڑے گا
’دوبے کا پڑاؤ‘ میں ٹیکسٹائل مارکیٹ کے ایک تاجر پریم اروڑا نے کہا کہ آن لائن ادائیگیاں پہلے ہی کاروبار کو متاثر کر رہی ہیں۔ اگر کوئی صارف پانچ ہزار روپے کی خریداری کرتا ہے تو تاجر پر بھی ایم ڈی آر کا بوجھ پڑے گا۔مہاویر گنج کے ایک گروسری بزنس مین پون کمار ورشنے نے کہا کہ تاجر تھوک بازار سے سامان خریدتے وقت آن لائن ادائیگی بھی کرتے ہیں۔ تہواروں کا سیزن شروع ہونے کے ساتھ، نئے نظام سے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
ریلوے روڈ پر کچوری بیچنے والے کاروباری سریش نے وہ نقد سے زیادہ آن لائن ادائیگیاں وصول کرتے ہیں۔ گاہک اپنی جیبوں میں زیادہ نقدلے کر بازار نہیں آتے۔ لہٰذاکیو آر کوڈز ہٹانے سے صارفین اور دکانداروں دونوں کیلئے ادائیگی کا طریقہ بدل جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:وزیراعظم مودی کو سالگرہ پر پوری دنیا سے مبارکباد کے پیغامات
’’ یو پی آئی میری عادت بن گئی ہے‘‘
رسل گنج میں ایک دکان سے دوائیں خرید نے کے دوران صارف راجندرکمار نے کہا کہ یو پی آئی کی ادائیگی ان کی عادت بن گئی ہے۔ وہ بغیر بٹوے کے گھر سے نکل جاتے ہیں اور انہیں اس کے چوری یا گر جانے کی فکر نہیں ہوتی۔ حکومت نے بس ایک فیصلہ کیا ہے، اور صرف ایک دن میں فرق دیکھیںکہ گاہکوںکو دکانوں سے لوٹایاجارہا ہے۔
فیصلہ واپس لیا جائے ورنہ احتجاج کا انتباہ
اتر پردیش انڈسٹری ٹریڈ ایسوسی ایشن نے یو پی آئی لین دین پر ٹیکس لگانے کی تجویز کی مخالفت کی ہے۔ تنظیم نے اسے ڈیجیٹل انڈیا کی روح کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ اگر اس تجویز کو واپس نہیں لیا گیا تو ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔ صوبائی سینئر نائب صدر پردیپ گنگا نے کہا کہ یہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے ساتھ ناانصافی ہوگی، جنہوں نے ڈیجیٹل انڈیا اور کیش لیس معیشت کے وزیر اعظم کے وژن کو آگے بڑھانے کیلئے یو پی آئی کو اپنایا ہے۔
’’فائنانس پینل یوپی آئی ٹیکس سے لاعلم تھا‘‘
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے یو پی آئی ادائیگیوں پر مرچنٹ فیس عائد کیے جانے کی تجویز کے سلسلے میں ا نکشاف کیا ہےکہ پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ کے سامنے اس سلسلے میں کوئی تجویز پیش نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نہ ہی محکمہ خزانہ نےکمیٹی کے ساتھ میٹنگ میںاس تعلق سے کوئی خصوصی تجویز سامنے آئی ۔ فائنانس پینل اس سے لا علم تھا ۔