رکھشا کھڑسے اور حناگاوت کے تعلق سے مغلظات کا استعمال کیا تھا جس کا کلپ وائرل ہو چکا ہے، ایٹروسٹی ایکٹ کے تحت گرفتاری
EPAPER
Updated: August 08, 2026, 7:49 AM IST | Nandurbar
رکھشا کھڑسے اور حناگاوت کے تعلق سے مغلظات کا استعمال کیا تھا جس کا کلپ وائرل ہو چکا ہے، ایٹروسٹی ایکٹ کے تحت گرفتاری
حال ہی میں بی جے پی کے شمالی مہاراشٹر کے کور آرڈی نیٹر وجے چودھری ۲؍ آڈیو کلپ وائرل ہوئے تھے جن میں سے ایک میں وہ پارٹی کی سابق رکن پارلیمان حناگاوت کے تعلق سے گالی گلوچ کر رہے تھے تو دوسرے میں مرکزی وزیر رکھشا کھڑسے کو گالیاں دے رہے تھے۔ ان آڈیوکلپ کے وائرل ہونے کے بعد انہوں نے اپنے عہدے سے استعفی دیدیا تھا۔اب وجے چودھری کو اسی معاملے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
وجے چودھری کو نندوربار لوکل کرائم برانچ کی ٹیم نے گرفتار کیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق گرفتاری کے بعد ان کا طبی معائنہ کیا گیا ، پھر حوالات میں بھیج دیا گیا۔ اطلاع کے مطابق سابق رکن پارلیمان حنا گاوت کے بھائی کی شکایت کے بعد وجے چودھری کے خلاف ایٹروسیٹی ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔ اسی کی بنا پر انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کارروائی سے شمالی مہاراشٹر کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔
یاد رہے کہ وجے چودھری کے جو آڈیو کلپ وائرل ہوئے تھے ان میں سے ایک میں وہ سینئر وزیر گریش مہاجن سے بات کر رہے تھے۔ جبکہ دوسرے میں بی جے پی کے ایک مقامی لیڈر سے۔ ان میں وہ حنا گاوت کو گالیاں دے رہے تھے ۔ حنا گاوت کے چچا زاد بھائی روہن گاوت نے اس کے خلاف شکایت درج کروائی تھی۔ حالانکہ وجے چودھری نے ان تمام الزامات کی تردید کی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ تمام آڈیو کلپ اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بنائے گئے تھے۔ یہ ایک سیاسی سازش تھی جو اپوزیشن کی طرف سے انہیں اور پارٹی کو بدنام کرنے کیلئے رچی گئی تھی۔ اس معاملے نے شمالی مہاراشٹر میں بی جے پی کے اندرونی تنازع کو سامنے لایا ہے اور سیاسی ماحول میں زبردست ہلچل مچا دی ہے۔
یاد رہے کہ وجے چودھری نے ان ۲؍ کال میں سے ایک وزیر گریش مہاجن کو کی تھی۔ وہ گریش مہاجن سے رکھشا کھڑسے کی شکایت کر رہے تھے اور انہیں گالیاں دے رہے تھے ۔ گریش مہاجن انہیں روکنے کے بجائے ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔ ایکناتھ کھڑسے کو بھی انہوں نے نازیبا الفاظ سے یاد کیا تھا۔اہم بات یہ ہے کہ اب تک اس معاملے میں پارٹی نے گریش مہاجن سے کوئی باز پرس نہیں کی ہے۔ وجے چودھری کاآڈیو وائرل ہونے پر پارٹی کے دیگر لیڈران نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اس کی وجہ سے بی جے پی کے اندرونی اختلافات بھی سامنے آ گئے ہیں۔