Updated: August 07, 2026, 6:02 PM IST
| Aurangabad
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جین زی کو ’’ملک دشمن‘‘ قرار نہیں دینا چاہیے اور نوجوانوں کے احتجاج کو جمہوری بات چیت کا جائز ذریعہ سمجھنا چاہیے۔ دپکے نے کہا کہ چونکہ موہن بھاگوت کو بی جے پی کا نظریاتی لیڈر سمجھا جاتا ہے، اس لیے انہیں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور بی جے پی قیادت کو بھی یہی پیغام دینا چاہیے کہ اختلافِ رائے رکھنے والے طلبہ کو ’’اینٹی نیشنل‘‘ کہنا بند کیا جائے۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے۔ تصویر: آئی این این
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے سربراہ موہن بھاگوت کے حالیہ بیان کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اب یہی مؤقف بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کی اعلیٰ قیادت تک بھی پہنچایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آر ایس ایس یہ مانتی ہے کہ جین زی کے نوجوان ملک دشمن نہیں ہیں تو حکومت اور حکمران جماعت کو بھی احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف ایسی زبان استعمال کرنا بند کر دینی چاہیے۔ یہ ردِعمل موہن بھاگوت کے ممبئی میں International Movement to Unite Nations (IIMUN) کی تقریب سے خطاب کے بعد سامنے آیا، جہاں انہوں نے کہا تھا کہ جین زی Z کی شکایات حقیقی ہیں، احتجاج جمہوری مکالمے کا ایک جائز ذریعہ ہے اور نوجوانوں کو ’’ملک دشمن‘‘ قرار دینا درست نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ نوجوان سوال پوچھتے ہیں، اپنی رائے کھل کر پیش کرتے ہیں اور انہیں سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: جنترمنتر سے مشہور ہوئے جنید ’بھائی‘ رانچی بھی پہنچ گئے
ابھیجیت دپکے نے کہا کہ ’’موہن بھاگوت کے بیان کا سب سے اہم حصہ یہی تھا کہ جین زی کو اینٹی نیشنل نیشنل نہیں کہا جانا چاہیے۔ چونکہ وہ بی جے پی کے نظریاتی لیڈر اور سرپرست کا کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہی بات بی جے پی، وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو بھی بتانی چاہیے۔‘‘ دپکے نے مزید کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران NEET، دیگر امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور نوجوانوں سے متعلق مختلف مسائل پر احتجاج کرنے والے طلبہ کو بارہا ’’ملک دشمن‘‘ قرار دیا گیا، جبکہ ان کے مطابق نوجوان صرف اپنے مستقبل، روزگار اور تعلیم سے متعلق جائز سوالات اٹھا رہے تھے۔ انہوں نے کہا: ’’اختلافِ رائے رکھنے والے ہر نوجوان کو ملک دشمن قرار دینا بند ہونا چاہیے۔‘‘
کانگریس نے بھی اس معاملے پر حکومت کو نشانہ بنایا۔ پارٹی کے میڈیا ونگ کے سربراہ پون کھیڑا نے سوال اٹھایا: ’’اگر موہن بھاگوت کہتے ہیں کہ جین زی ملک دشمن نہیں ہے تو پھر امیت شاہ کہاں ہیں؟ کیا وہ اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں؟‘‘ کانگریس کا کہنا تھا کہ حکومت کو نوجوانوں کی آواز دبانے کے بجائے ان کے مسائل حل کرنے چاہییں۔ یاد رہے کہ موہن بھاگوت نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا تھا کہ احتجاج جمہوریت کا ایک جائز حصہ ہے، لیکن اس کا مقصد معاشرے میں تقسیم پیدا کرنا نہیں بلکہ اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق نوجوان نسل کو صرف ہدایات دینے کے بجائے اس سے مکالمہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ممتا بنرجی کی پارٹی کے باغیوں میں بغاوت
واضح رہے کہ سی جے پی نے حالیہ مہینوں میں امتحانیبے ضابطگیوں، NEET پیپر لیک، روزگار اور تعلیمی اصلاحات جیسے معاملات پر ملک گیر طلبہ احتجاج کی قیادت کی تھی۔ انہی احتجاجوں کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نوجوانوں کے کردار، اختلافِ رائے اور احتجاج کے حق پر سیاسی بحث شدت اختیار کر گئی تھی۔ حالیہ دنوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے نوجوان ووٹروں تک رسائی کے لیے سوشل میڈیا پر نئی مہم شروع کیے جانے کو بھی اسی پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔