Updated: August 07, 2026, 10:06 PM IST
| Islamabad
حسن نے ہندوستان کے ’نیٖٹ‘ پیپر لیک تنازع، جس نے سی جے پی کی قیادت میں مظاہروں کو جنم دیا، کا موازنہ پاکستان کے ’میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ‘ (MDCAT) کے اسکینڈلز سے کیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ دونوں ممالک کے شہری، کوچنگ سینٹرز کی وجہ سے قرض کے یکساں بوجھ اور نوجوانوں کی بے روزگاری کے مشترکہ بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔
پاکستان کے شہر لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کارکن نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے کو ایک کھلا خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے ہندوستان میں طلبہ کی قیادت میں جاری احتجاجی تحریک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور سرحد پار کے نوجوانوں کو درپیش مشکلات کا موازنہ کیا۔
لاہور کے ایک فری لانس برانڈ ڈیزائنر اور ترقی پسند کارکن احتشام حسن کا تحریر کردہ یہ خط، سی جے پی کی تحریک کو پاکستانی نوجوانوں میں بھی گہری گونج پیدا کرنے والی کے طور پر بیان کرتا ہے۔ حسن لکھتے ہیں کہ جب ہندوستان کے چیف جسٹس نے بے روزگار نوجوانوں کو بیان کرنے کیلئے ”کاکروچ“ کا لفظ استعمال کیا تو پاکستان کے نوجوانوں نے اسے فوری طور پر اس بات کی عکاسی کے طور پر پہچان لیا کہ پورے جنوبی ایشیاء میں برسرِ اقتدار طبقہ اس ”اضافی“ نسل کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ یہ بے روزگار گریجویٹس اور ایسے طلبہ کا گروپ ہے جن کا مستقبل لیک شدہ امتحانی پرچوں کی وجہ سے تباہ ہوگیا۔
یہ بھی پڑھئے: بی جے پی، مودی جین زی کو ملک دشمن کہنا بند کریں: ابھیجیت دپکے
حسن نے ہندوستان کے ’نیٖٹ‘ پیپر لیک تنازع، جس نے سی جے پی کی قیادت میں مظاہروں کو جنم دیا، کا موازنہ پاکستان کے ’میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ‘ (MDCAT) کے اسکینڈلز سے کیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ دونوں ممالک کے شہری، کوچنگ سینٹرز کی وجہ سے قرض کے یکساں بوجھ اور نوجوانوں کی بے روزگاری کے مشترکہ بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ اگرچہ امتحان کا لیک ہونا ایک فوری وجہ تھا، لیکن بنیادی مسائل جیسے بے روزگاری، غربت اور گرتا ہوا معیارِ زندگی، پورے خطے میں مشترک ہیں۔
احتشام حسن نےاپنے خط میں نوٹ کیا ہے کہ اگست کا مہینہ دونوں ملکوں کیلئے نوآبادیاتی راج سے آزادی کی سالگرہ کی نشان دہی کرتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ۸۰ سال بعد کیا حاصل ہوا ہے جب کہ کروڑوں لوگ اب بھی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ حسن نے جنریشن زی (Gen Z) پر زور دیا کہ وہ تبدیلی کا انتظار کرنے کے بجائے تعلیم حاصل کریں، متحد ہوں اور متحرک ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: کاکروچ جنتا پارٹی عوام کے مسائل کو سمجھنے کیلئے اگلے ماہ ’کیا بولتی پبلک‘ مہم شروع کرے گی: دِپکے
حسن نے سی جے پی کی تحریک کو مقبولیت حاصل کرتے ہوئے دیکھنے کے دوران تعریف اور حسرت کے امتزاج کا ذکر کیا جس نے صرف دو ہفتوں کے اندر ۲ کروڑ ۲۰ لاکھ سے زائد فالورز حاصل کئے۔ انہوں نے اس کا موازنہ پاکستان میں اختلافِ رائے کیلئے محدود جگہ سے کیا، جہاں کارکنوں کو خاموشی سے اور عوامی نظروں سے دور ہو کر تنظیم سازی کرنی پڑی ہے۔
حسن نے ”کاکروچ“ کی علامت کو برِصغیر کے نوجوانوں کیلئے موزوں قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سرحدوں سے قطع نظر زندہ رہتا ہے اور ان نظاموں سے زیادہ دیر تک قائم رہتا ہے جو اسے دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے سی جے پی کے ابھار کو نوجوانوں کی تحاریک کو خاموش کرنے کیلئے استعمال ہونے والے حربوں کے بارے میں ایک انتباہ اور لاہور، کراچی سمیت جنوبی ایشیاء میں دیگر مقامات پر موجود نوجوانوں کیلئے امید کا ذریعہ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’ملک میں جوابدہی طے کرنے کیلئے ایک عوامی تحریک کی ضرورت ہے‘
احتشام حسن نے اپنے خط کا اختتام دیپکے سے مظاہرے جاری رکھنے کی اپیل اور اس امید کے اظہار کے ساتھ کیا کہ یہ تحریک جنوبی ایشیاء کے نوجوانوں کے درمیان وسیع تر اور سرحدوں سے ماورا یکجہتی کو جنم دے سکتی ہے۔