• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسلم لڑکوں کی گربا میں شمولیت پر بی جے پی ایم ایل اے کا مسلم خواتین کے خلاف نازیبا بیان

Updated: September 23, 2026, 8:01 PM IST | Bhopal

مسلم لڑکوں کی گربا میں شمولیت پر بی جے پی ایم ایل اےرامیشور شرما نے مسلم خواتین کے خلاف توہین آمیز بیان دیا ، جس پر اپوزیشن نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے، تاہم شرما اپنے بیان پر قائم ہیں۔

BJP MLA Rameshwar Sharma. Photo: X
بی جے پی ایم ایل اےرامیشور شرما۔ تصویر: ایکس

مدھیہ پردیش کےبی جے پی ایم ایل اےرامیشور شرما نے گربا میں مسلم خواتین کو شامل کرنے سے متعلق ایک توہین آمیز بیان دیا ہے۔ ان کے اس بیان پر اپوزیشن لیڈروں نے سخت تنقیدیںکیں ۔ واضح رہے کہ وہ اس سے پہلے سےاسی طرح کےمسلم مخالف بیان دیتے آرہے ہیں۔ بھوپال کے مسلم اکثریت والے علاقے پر میزائل داغنے کی دھمکی دینے کے بعد، بی جے پی کے رکن اسمبلی رامیشور شرما نے گربا میں مسلم لڑکوں کے شامل ہونے پر مسلم خواتین کے خلاف ایک توہین آمیز اور قابلِ اعتراض بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو بھی ساتھ لاؤ، ہمارے لڑکے بھی تیار ہیں۔‘‘ بھوپال کی حضور اسمبلی حلقےسے بی جے پی ایم ایل اےرامیشور شرما نے ایک عوامی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا گربا میں خیر مقدم ہے اور انہیں مستقل طور پر ’’خوش آمدید‘‘کہا جانا چاہئے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ صرف مسلم لڑکے ہی گربا میں کیوں آنا چاہتے ہیں؟ وہ گھر سے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو بھی ساتھ لائیں، ہمارے لڑکے بھی تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’آؤ، جے شری رام کے نعرے لگاؤ، پیشانی پر تلک لگاؤ اور گائے ماتاکی حفاظت کرو، کسی کو کوئی مسئلہ ہوسکتا ہے؟‘‘بعد میں بھی شرما اپنے اس بیان پر قائم رہے اور وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اگر مسلمانوں میں ’’سناتن‘‘ کیلئے اتنی ہی محبت اور لگاؤ پیدا ہو گیا ہے تو وہ صرف گربا دیکھنے نہ آئیں بلکہ اپنی بہنوں، بیٹیوں، ماؤں اور باپوں کو بھی ساتھ لائیں اور باقاعدہ مذہبی تقریبات میں حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف گربا کا نظارہ کرنے کے بجائے دیوی کی پوجا کریں، گربا کھیلیں اور ماں جگدمبا کا پرساد لیں۔  بعد ازاں شرما کے اس بیان پر اپوزیشن کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ بھوپال سینٹرل سے کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود نے اس بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ’’انتہائی قابلِ اعتراض، گھٹیا اور غلیظ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے رامیشور شرما کو ’’نفرتی چنٹو‘‘ کا نام دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا گربا سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور وہ اسلاموفوبک جذبات کو بھڑکانے والی زبان استعمال کرنا بند کریں اور اپنی اصلاح کریں۔ اس کے علاوہ کانگریس کے میڈیا ہیڈ اور سابق وزیرِ تعلیم مکیش نائک نے کہا کہ اس قسم کے بیانات دینا شرما کی ’’یو ایس پی‘‘ بن چکا ہے اور وہ اسی قسم کی بیان بازی کے ذریعے انتخابات کو پولرائز کر کے تین چار بار ایم ایل اے بنے ہیں، جبکہ ان کے پاس جیت حاصل کرنے کی اور کوئی قابلیت نہیں ہے۔ مزید برآں انہوں نے بی جے پی لیڈروں رامیشور شرما اور وجے شاہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صبح سے شام تک صرف گالیاں دینے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا جا رہا۔ 

یہ بھی پڑھئے: رام مندر چوری معاملے میں بڑی مچھلیوں کو بچانے کی کارروائی چل رہی ہے: کانگریس

 وہیں اے آئی سی سی کی میڈیا کوآرڈینیٹر ہرنیت کور نے شرما کے بیان کو ’’بے شرم اور گھناؤنا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر نہ تو وزیر اعظم نریندر مودی کو کوئی صدمہ پہنچے گا اور نہ ہی میڈیا میں کوئی طوفان آئے گا۔ جبکہ آل انڈیا مجلسِ اتحاد المسلمین مدھیہ پردیش کے صدر محسن علی خان نے شرما پر ملک کو تقسیم کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ایم ایل اے کو آئین پڑھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے آئین کی دفعہ ۲۵؍ کا حوالہ دیا جو مذہبی آزادی کا حق دیتی ہے، اور بتایا کہ اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت بین المذاہب شادیوں کی بھی قانونی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مذہب کو دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے والے بیانات کی مخالفت ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ کانگریس سیوا دل نے بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یوں لگتا ہے جیسے بی جے پی لیڈروں نے خواتین کی توہین کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: تبلیغی مرکز کے کیس میں مزید۲؍ ایف آئی آر منسوخ

 واضح رہے کہ رامیشور شرما اس سے قبل بھی مسلمانوں، مذہبی امور اور بین المذاہب تعلقات پر مسلسل زہریلی اور نفرت انگیز بیان بازیاں کرتے رہے ہیں۔ اسی مہینے کے شروع میںبھوپال کے مسلم اکثریتی علاقے قاضی کیمپ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا یہ اشتعال انگیز بیان شدید تنازع کا باعث بنا تھا کہ’’اگر کروند چوراہے سے میزائل داغا جائے تو اسے قاضی کیمپ میں گرنا چاہئے‘‘۔۲۰۲۱ء میں مدھیہ پردیش اسمبلی کے پروٹیم اسپیکر کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے، انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ گربا ایک مذہبی تقریب ہے اور اس میں صرف ہندوؤں کو ہی شرکت کرنی چاہئےاور سوال اٹھایا تھا کہ اگر مسلمان ہندو دھرم کو نہیں مانتے تو وہ اس میں کیوں شامل ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس سے پہلے ۲۰۲۰ء کے آخر میں، رام مندر کی چندہ مہم پر مبینہ پتھراؤ اور بین المذاہب تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے ’’پتھربازو ںکان کھول کے سن لو، سیتا کو روبیہ بنانے والے بھی کان کھول کے سن لو...‘‘ کا جملہ کہا تھا جسے ’’لو جہاد‘‘ اور مذہب تبدیلی کے تناظر میں دیکھا گیا۔  ۲۰۲۰ء میں مدھیہ پردیش کے مذہب تبدیلی مخالف آرڈیننس کی منظوری کے بعد انہوں نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’’لو جہاد کیا تو اب ہوگا سروَناش‘‘۔ علاوہ ازیں، شرما ماضی میں یہ اعتراف بھی کر چکے ہیں کہ وہ ۱۹۹۲ء میں ایودھیا میں ۱۶؍ ویں صدی کی بابری مسجد کی مسماری میں شامل بھیڑ کا حصہ تھے اور انہوں نے اس واقعہ کو اپنی زندگی کے سب سے تسلی بخش لمحات میں سے ایک قرار دیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK