کورونا کےدورمیں تبلیغی جماعت پرلگے الزام میں الہ آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ،محض قیاس کی بنیاد پر مقدمہ چلانے پر عدالت کا سخت تبصرہ۔
EPAPER
Updated: September 23, 2026, 11:38 AM IST | Hamidullah Siddiqui | Luckhnow
کورونا کےدورمیں تبلیغی جماعت پرلگے الزام میں الہ آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ،محض قیاس کی بنیاد پر مقدمہ چلانے پر عدالت کا سخت تبصرہ۔
کورونا وبا کے دوران دہلی کے نظام الدین مرکز میں مذہبی اجتماع میں شرکت کے الزام میں درج ایف آئی آر کے معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے جونپور کے شاہ گنج تھانے میں دو افراد کے خلاف درج ایف آئی آر اور اس سے متعلق تمام فوجداری کارروائی منسوخ کردی ہے۔ عدالت نے کہا کہ محض قیاس اور مفروضے کی بنیاد پر کسی شخص کو فوجداری مقدمے میں گھسیٹنا قانون کے عمل کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔ یہ مقدمہ اپریل ۲۰۲۰ء میں شاہ گنج تھانے میں درج ہواتھا۔ جسٹس ڈاکٹر گوتم چودھری نے ۱۸؍ ستمبر کو دیئے گئے اپنے حکم میں کہا کہ دونوں افراد کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے اور ان کے ذریعے دوسروں میں انفیکشن پھیلنے کے خدشے کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا تھا، جبکہ بعد میں ان کے کووِڈ-۱۹؍ ٹیسٹ منفی آئے تھے۔ پولیس نے انفیکشن پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ دونوں افراد دہلی کے نظام الدین مرکز میں منعقد مذہبی اجتماع میں شرکت کرکے واپس آئے تھے۔ الزام تھا کہ واپسی کے بعد وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھروں میں رہ رہے تھے اور انہوں نے اس بارے میں حکام کو اطلاع نہیں دی۔ پولیس نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ دونوں افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں اور دوسرے لوگوں میں انفیکشن پھیلا سکتے ہیں۔ اس کے بعد دونوں کا طبی معائنہ کرایا گیا اور انہیں ’کوارنٹائن‘ سینٹر بھیج دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:’’ایس آئی آر میں منطقی تضاد کو واضح کریں‘‘
درخواست گزاروں نے ہائی کورٹ میں موقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف ایف آئی آر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر درج کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران پولیس اہلکاروں اور ان کا طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کے بیانات ریکارڈکئے گئے، لیکن اس کے باوجود تفتیشی ایجنسی نے سرسری انداز میں چارج شیٹ داخل کردی۔ درخواست گزاروں کے مطابق بعد میں ان کے کورونا ٹیسٹ منفی آئے تھے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ریاست کی جانب سے ان حقائق کی تردید نہیں کی گئی۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزاروں کو محض قیاس اور مفروضے کی بنیاد پر مقدمے میں پھنسایا گیا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر یہ کارروائی جاری رہتی ہے تو یہ عدالت کے عمل اور قانون کے عمل کے غلط استعمال کے مترادف ہوگی۔ اس کے بعد عدالت نے جونپور کے ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں دونوں افراد کے خلاف زیر التواتمام فوجداری کارروائی منسوخ کردی۔
یہ بھی پڑھئے:کولکاتا کالج: اے بی وی پی پر مسلم پروفیسر نے لگایا زبردستی استعفیٰ لینے کا الزام
واضح رہے کہ مارچ ۲۰۲۰ء میں نظام الدین مرکز میں منعقد مذہبی اجتماع کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کے خلاف متعدد مقدمات درج کئے گئے تھے۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے بھی وبا کے دوران غیر ملکی شہریوں کو مبینہ طور پر مساجد اور گھروں میں ٹھہرانے سے متعلق مقدمات میں ایف آئی آر درج کیں اور چارج شیٹ داخل کی تھیں تاہم، الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے واضح ہے کہ محض خدشے، قیاس یا مفروضے کی بنیاد پر کسی شخص کے خلاف فوجداری کارروائی کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ اس سے قبل مزید کئی معاملات میں بھی ایف آئی آر منسوخ کی جاچکی ہیں۔