Updated: October 30, 2026, 10:04 PM IST
| New Delhi
ورلڈ بینک کی اکتوبر ۲۰۲۶ء کی رپورٹ میں ہندوستان میں غربت میں نمایاں کمی کا اعتراف کیا گیا ہے، لیکن روزگار کے معیار، حقیقی اجرتوں اور آمدنی کی غیر مساوی تقسیم پر تشویش بھی ظاہر کی گئی ہے۔ ۲۰۱۱ء سے ۲۰۲۳ء کے درمیان ۶ء۴۹؍ کروڑ افراد ۲۰ء۴؍ ڈالر یومیہ کے غربت کے معیار سے اوپر آئے، تاہم ۲۰۲۳ء میں بھی ۸۰؍ فیصد آبادی کی یومیہ کھپت ۳۰ء۸؍ ڈالر کے بین الاقوامی معیار سے کم تھی۔ رپورٹ کے مطابق روزگار میں اضافے کے باوجود حقیقی آمدنی تقریباً جمود کا شکار رہی۔
ہندوستان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران غربت میں کمی کی رفتار دنیا کے تیز ترین رجحانات میں شامل رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ آمدنی کی عدم مساوات اور روزگار کے معیار سے متعلق مسائل برقرار ہیں۔ ورلڈ بینک کی تازہ ترین India Poverty and Equity Brief، October 2026 کے مطابق ۲۰۱۱ء سے ۲۰۲۳ء کے درمیان ملک میں تقریباً ۴۹۶؍ ملین، یعنی ۶ء۴۹؍ کروڑ افراد غربت کی مقررہ حد سے باہر آئے۔ اس مدت میں ۲۰ء۴؍ ڈالر یومیہ کے معیار سے نیچے زندگی گزارنے والی آبادی کا تناسب ۷ء۵۷؍ فیصد سے گھٹ کر ۱ء۱۶؍ فیصد رہ گیا۔ تاہم رپورٹ نے واضح کیا ہے کہ غربت میں کمی کے باوجود روزگار سے ہونے والی حقیقی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا اور آمدنی کی تقسیم میں نمایاں فرق برقرار ہے۔ رپورٹ کے مطابق انتہائی غربت میں بھی نمایاں کمی درج کی گئی ہے۔ ۲۰۱۱ء میں ہندوستان کی ۱ء۲۷؍ فیصد آبادی روزانہ ۳؍ ڈالر (۲۸۵؍ روپے) سے کم پر گزارا کررہی تھی، لیکن ۲۰۲۳ء میں یہ تناسب گھٹ کر ۶ء۲؍ فیصد رہ گیا۔ اسی طرح کثیرالجہتی غربت، جس میں آمدنی کے ساتھ تعلیم، صحت، صفائی، بجلی اور بنیادی سہولتوں تک رسائی جیسے عوامل کو بھی دیکھا جاتا ہے، میں بھی کمی آئی ہے۔ آکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو کے Multidimensional Poverty Index کے مطابق ۰۶۔۲۰۰۵ء میں ۸ء۵۳؍ فیصد آبادی اس زمرے میں تھی، جو ۲۱۔۲۰۱۹ء میں گھٹ کر ۴ء۱۶؍ فیصد رہ گئی۔ ورلڈ بینک کے اپنے کثیرالجہتی غربت کے پیمانے پر ۲۳۔۲۰۲۲ء میں یہ شرح ۵ء۱۵؍ فیصد درج کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: مائیکرو فائنانس کمپنیوں کے قرض کی وصولی سے پریشان بے زمین مزدوروں نے اپنا گھر فروخت کیلئے پیش کردیا
غربت میں کمی کے اس سفر کے ساتھ روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۱۷ء سے ۲۰۲۳ء کے درمیان ہندوستان میں ملازمت کرنے والے افراد کی تعداد تقریباً ۱۳۴؍ ملین، یعنی ۴ء۱۳؍ کروڑ بڑھی۔ یہ اضافہ اسی عرصے میں کام کرنے کی عمر والی آبادی میں ہونے والے اضافے سے تقریباً دو گنا تھا۔ رپورٹ کے مطابق روزگار میں اس ترقی کا ایک اہم حصہ دیہی خواتین کی اجرتی کام میں شمولیت سے آیا، جس کے نتیجے میں کئی گھرانوں میں کمانے والے افراد کی تعداد بڑھی۔ تاہم روزگار کے اعداد میں بہتری کا مطلب یہ نہیں کہ ملازمتوں سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی اسی رفتار سے بڑھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حقیقی اجرتیں بڑی حد تک غیر تبدیل شدہ رہیں اور روزگار میں اضافے کا بڑا حصہ نسبتاً کم پیداواری سرگرمیوں میں مرکوز رہا۔ آمدنی کی تقسیم میں فرق اس رپورٹ کا ایک اہم پہلو ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق ۲۰۲۳ء میں امیر ترین ۱۰؍ فیصد کارکنوں کی درمیانی آمدنی (Median Earnings) غریب ترین ۱۰؍ فیصد کارکنوں کے مقابلے میں تقریباً ۱۳؍ گنا زیادہ تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روزگار کے مواقع بڑھنے کے باوجود ملک کے مختلف معاشی طبقات کو حاصل ہونے والی آمدنی میں بہت بڑا فرق موجود ہے۔ رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ آمدنی اور کھپت کے سروے میں امیر گھرانوں کی مکمل نمائندگی نہ ہونے کے سبب عدم مساوات کی حقیقی سطح سرکاری اعداد و شمار میں کم ظاہر ہوسکتی ہے۔ اس لیے غربت میں کمی کے اعداد کو آمدنی کی مساوی تقسیم کا ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا۔
یہ بھی پڑھئے: کسانوں کی خودکشی کے معاملے پر شندے سینا کے رکن اسمبلی کا متنازع بیان
غربت کا گراف
رپورٹ میں ۳۰ء۸؍ ڈالر یومیہ کے بین الاقوامی غربت کے معیار کے حوالے سے بھی اہم اعداد پیش کیے گئے ہیں۔ ۲۰۲۳ء میں ہندوستان کی ۸۰؍ فیصد آبادی اس معیار سے نیچے تھی، یعنی تقریباً ۱۵ء۱؍ ارب افراد کی یومیہ کھپت اس حد سے کم تھی۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ۳۰ء۸؍ ڈالر کا پیمانہ ۲۰۲۱ء کی Purchasing Power Parity (PPP) پر مبنی ہے۔ اسے موجودہ ڈالر-روپیہ شرحِ تبادلہ کے مطابق ۷۸۸؍ روپے کی براہِ راست یومیہ آمدنی نہیں سمجھا جاسکتا۔ یہ بین الاقوامی معیار مختلف ملکوں میں اشیا اور خدمات کی قیمتوں کے فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے قوتِ خرید کا موازنہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ملک کے اندر بھی غربت کی صورت حال یکساں نہیں ہے۔ ۲۰ء۴؍ ڈالر یومیہ کے معیار کے مطابق ۲۰۲۳ء میں دیہی علاقوں میں غربت کی شرح ۳ء۱۹؍ فیصد تھی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ ۶ء۸؍ فیصد درج کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اتر پردیش سے مغربی بنگال تک پھیلی ہوئی ریاستوں کی ایک مسلسل پٹی میں ملک کی تقریباً ۵۷؍ فیصد غریب آبادی رہتی ہے۔ کم تعلیمی قابلیت، اثاثوں کی کمی، مستحکم روزگار تک محدود رسائی اور گھرانوں میں زیر کفالت افراد کی زیادہ تعداد غربت کے خطرے کو بڑھانے والے عوامل ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق دیہی علاقوں میں بہتر معیار کی غیر زرعی ملازمتوں کے محدود مواقع بھی آمدنی بڑھانے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی: تشدد کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کے خواہشمندوں کیلئے سرکاری ملازمت نہیں
نوجوان میں روزگار
رپورٹ میں نوجوانوں کے روزگار سے متعلق ایک اور تشویش بھی سامنے آئی ہے۔ مالی سال ۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی سے مالی سال ۲۰۲۷ء کی پہلی سہ ماہی کے درمیان نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح ۶ء۱۴؍ فیصد سے بڑھ کر ۹ء۱۵؍ فیصد ہوگئی۔ اس اضافے کا اثر خاص طور پر دیہی نوجوان خواتین پر زیادہ نمایاں رہا۔ ورلڈ بینک نے غربت میں مزید کمی کے لیے صرف ملازمتوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے زیادہ پیداواری اور بہتر اجرت والی ملازمتوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ گھریلو سروے میں پیمائش کے طریقوں کی بہتری نے بھی بعض اعداد پر اثر ڈالا ہوسکتا ہے، اس لیے گزشتہ برسوں کے مقابلے میں درج ہونے والی فلاحی بہتری کو سمجھتے وقت اس پہلو کو بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔