بی ایم سی کمشنر نے مثبت یقین دہانی کروائی۔کچے روڈ کی جنگی پیمانے پرصاف صفائی ۔کیچڑ اور تعفن سےلوگوں کوراحت ملی
اشوینی بھڈے کارمیں۔تصویر: آئی این این
بی ایم سی کمشنر اشوینی بھڈے سنیچر کی صبح ۹؍ بجے مالونی میں بنائے جارہے شہر کے سب سے بڑے سیوریج پلانٹ کا جائزہ لینے پہنچیں ۔ وہ جائزہ لے کر بی ایم سی افسران کے ہمراہ لوٹ رہی تھیں کہ مقامی مرد وخواتین نے ان کی گاڑی رکوائی اوران سے گندگی، تعفن اور صاف صفائی کے فقدان کی شکایت کی۔
کمشنر کی آمد سے کچے روڈ سے مشہوریہ علاقہ جہاں سیوریج پلانٹ بنایا جارہا ہے ، کا نقشہ ہی بدل گیا۔ سڑکیں چمک گئیں اور گندگی ختم ہوگئی۔ ساتھ ہی کمشنر کی یہ کہتے ہوئے ستائش کی گئی کہ میڈم آپ کی آمد کی اطلاع ملنے کے بعد یہاں جنگی پیمانے پر صاف صفائی کرائی گئی اور ہم لوگوں کو گندگی سے نجات مل گئی، اچھا ہوگا کہ آپ ہر مہینے یہاں کا دورہ کریں۔اس پر کمشنر نے توجہ دینے کا یقین دلایا۔ اس موقع پران شکایات اوراپیل کے جواب میںبی ایم سی کمشنر اشوینی بھڈے نےیہ بھی کہاکہ میںخیال رکھوں گی۔
واضح ہوکہ پہلے بدھ ۱۵؍جولائی کوکمشنر کی آمد کی اطلاع تھی مگر کسی مصروفیت کےسبب وہ نہ آسکی تھیں۔ اس وقت بھی کچے روڈ کی صفائی کی گئی، مہینوں سے ٹوٹے ہوئے ڈوائیڈر کی مرمت اور رونگ وروغن بھی کیا گیا، بے ترتیب پارکنگ اورقبضہ جات کو ہٹایا گیا۔مقامی افراد کوپہلے اطلاع نہیں تھی اس لئے وہ حیران تھے کہ آخر اس قدر اہتمام کیوں کیا جارہا ہے؟ آج تک تو اس انداز میںکبھی صفائی نہیں کرائی گئی۔بار بار توجہ دلانے پربھی بات نہیں سنی جاتی ہے۔ اس پر کوئی قیاس لگا رہا تھا کہ سی ایم آنے والے ہیں تو کوئی کہہ رہاتھا کہ بی ایم سی کمشنریا کوئی بڑا افسر آنے والا ہے، اس لئےیہ سب کیاجارہا ہے۔حالانکہ کچھ افراد کا یہ بھی کہنا ہےکہ صاف صفائی تو ہوگئی مگر یہ سب کچھ وقتی ہے اور یہ کمشنر صاحبہ کی آمد کی مہربانی تھی ، چند دن بعد سب کچھ پہلے جیساہوجائے گا۔
بی ایم سی کمشنر کی گاڑی رکوانے اوران سے بات چیت کرنے میںگوہر قریشی ،ارشد خان عرف منٹی ،چاند پاشا ، جاوید صدیقی ، مولانا محمدسلمان ، رمیش کامبلے ، سنتا بھائی ، نسرین بانو اور رہنماصدیقی وغیرہ پیش پیش تھے۔ گوہرقریشی نےبی ایم سی کمشنر سے کہاکہ ’’ میڈم یہ روڈ برسو ں سے خراب تھا، راستہ چلنا محال تھا ،بار بار شکایت کی گئی مگر کچھ نہیں ہوا، آپ کے آنے پریہ درست کردیا گیا ہے تو اتنی مہربانی کیجئے کہ آئندہ خراب نہ ہو۔‘‘
بی ایم سی کمشنرکیوں مالونی آئی تھیں؟
بی ایم سی کمشنر مالونی میںبنائے جارہے دہیسر تا اندھیری سیوریج پلانٹ کا جائزہ لینے کےلئے آئی تھیں ۔صبح ان کی آمد سےقبل اسسٹنٹ میونسپل کمشنر ولوی ، انجینئرس، مختلف شعبوںکے افسران ، کارپوریٹر قمر جہاں صدیقی اوردیگر اہلکار پہنچ چکے تھے۔اس دوران انہوں نےجائزہ لیا اور ایک ایک چیز پوچھی، کام کی نوعیت معلو م کی اورکسی قسم کی رکاوٹ تو نہیںآرہی ہے،اسے معلوم کیا۔
اس موقع پرموجود قمر جہاں صدیقی کے شوہر معین صدیقی نےبتایاکہ ’’ یہ سیوریج پلانٹ ممبئی کا سب سے بڑا پلانٹ ہے ۔اس کے ذریعے گندگی کو صاف کرنا ہے تاکہ وہ غلاظت سمندر میں نہ جائے بلکہ تحلیل ہوکر اور صاف پانی میں تبدیل ہوکر بہے ۔‘‘