غیر سرکاری تنظیم’’ویک اپ تھانیکر‘‘ کی قیادت میں احتجاج کیا گیا۔ ایسے پروجیکٹ کو شروع نہیں ہونے دیں گے: منوج پردھان
EPAPER
Updated: July 19, 2026, 10:29 AM IST | Iqbal Ansari | Thane
غیر سرکاری تنظیم’’ویک اپ تھانیکر‘‘ کی قیادت میں احتجاج کیا گیا۔ ایسے پروجیکٹ کو شروع نہیں ہونے دیں گے: منوج پردھان
ریاستی حکومت نے تھانے میں ڈیٹا سینٹرقائم کرنے کااعلان کیا ہے جس کےخلاف سنیچر کو تھانے کے شہریوں نے احتجاج کیا۔ یہ احتجاج غیر سرکاری تنظیم ’ویک اپ تھانیکر‘ کے بینر تلے کیاگیا۔ صبح۱۰؍ بجے سے دوپہر۱۲؍ بجے کے درمیان مظاہرین مجوزہ امیزون ڈیٹا سینٹر کے باہر جمع ہوئے اور ڈیٹا سینٹر کو قائم نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران اس احتجاج میں شریک این سی پی(شرد) کے تھانے کے صدر منوج پردھان نے خبردار کیا کہ ڈیٹا سینٹر کے خلاف یہ لڑائی غیر سیاسی ہوگی اور اس منصوبے کو ناکام بنادے گی جو ہمارے پانی اور بجلی چوری کرکے ہی ہماری پریشانی کا باعث بنے گا۔
مظاہرین نے بتایا کہ تھانے کے بالکم علاقے میں ۵۳؍ایکڑ پلاٹ پر جدید ڈیٹا سینٹر بنایا جائے گا۔ اس ڈیٹا سینٹر کو روزانہ۱۲؍ ملین لیٹر خالص پانی اور لامحدود بجلی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ اس ڈیٹا سینٹر سے علاقے میں ۹۰؍ ڈیسیبل شور ۲۴؍ گھنٹے اور سال کے۳۶۵؍ دن گونجتا رہے گا۔ اس شور کا خمیازہ حاملہ خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو بھگتنا پڑے گا۔ ویک اپ تھانیکر کے دیانند نینے، سادھاناتائی پردھان، راجیش کدم، میگھنا شیٹی، جتن کوٹھارے اور انورادھا روڈے وغیرہ نے گزشتہ ہفتے اس کے خلاف عوامی احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا۔ گزشتہ جمعرات کو وفد نے امیزون کے نمائندوں کے ساتھ کمشنر آف پولیس کے دفتر میں میٹنگ بھی کی لیکن چونکہ امیزون انہیں گمراہ کر رہا تھا، اس لئے ویک اپ تھانیکر نے شہریوں سے سڑکوں پر آنے کی اپیل کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: شاہ رخ خان کو راحت: سپریم کورٹ نے ’’منت‘‘ کی توسیع کے خلاف درخواست مسترد کردی
سنیچر کی صبح۱۰؍بجے، نوجوانوں اور بوڑھوں سمیت بڑی تعداد میں شہریوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز لے کر بالکم میں مجوزہ ڈیٹا سینٹر کے باہر احتجاج کیا۔ مظاہرے میں آس پاس کی سوسائٹیوں، بالکم گاؤں اور کولشت۔ ڈھوکالی کے ہزاروں شہریوں نے شرکت کی۔ ان تمام مظاہرین نے خبردار کیا کہ یہ ڈیٹا سینٹر بالکم میں نہیں بنایا جائے، ورنہ ہم مزید شدید احتجاج شروع کریں گے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے منوج پردھان نے کہا کہ امیزون اپنے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری پہل کے تحت تھانے کے شہریوں کا پانی اور بجلی چھین لے کر تھانے میں ۵۰؍پناہ گاہیں بنائے گا۔ یہ پناہ گاہیں مفت میں نہیں بنائی جائیں گی۔ بدلے میں تھانے کا پانی اور بجلی زبردستی لے لی جائے گی۔ یعنی اس معاملے میں ’مال کے تبادلے‘ کا قوی امکان ہے۔ مجوزہ پروجیکٹ کےایک کلومیٹر کے دائرے میں ۸؍سے زیادہ بڑے ہاؤسنگ کمپلیکس، ۵؍اسکول اور ۳؍ اسپتال ہیں جن میں پروجیکٹ سائٹ کے ۴۰۰؍ میٹر کے اندر بچوں کا اسپتال بھی شامل ہے۔ دنیا بھر میں بڑے ڈیٹا سینٹرز۹۰؍ ڈیسیبل تک مسلسل شور پیدا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ دیگر صنعتوں کے برعکس، ڈیٹا سینٹرز سے آنے والا شور مسلسل رہتاہے اور کبھی نہیں رکتا۔ علاقے کے شہریوں اور جانوروں پر اس کے ہونے والے مضر اثرات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
یہ بتاتے ہوئے کہ اس ڈیٹا سینٹر کا ماحول پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، ستیش پردھان نے کہا کہ تھانے کا درجۂ حرارت پچھلے کئی دنوں سے ۴۰؍ ڈگری تک پہنچ رہا ہے۔ اب اس ڈیٹا سینٹر کی وجہ سے ارد گرد کے علاقوں میں درجہ حرارت۵؍ ڈگری بڑھ کر خطرناک حد تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ ڈیٹا سینٹر صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ ’ویک اپ تھانیکر‘ کے اس آندولن میں ’نرمدا بچاؤ ‘کے احتجاج میں شرکت کرنے والے سماجی کارکن سنجے، جگدیش کھیرالیہ، رُتا اوہاڑ اور دیگر نے بھی حصہ لیا۔