Inquilab Logo Happiest Places to Work

سی ایس ایم ٹی کے باہراحتجاج کرنے والو ں کو پولیس نے تحویل میں لیا

Updated: July 19, 2026, 10:28 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

سونم وانگ چک کے ساتھ زبردستی اور طلبہ کی حمایت میں احتجاج۔ ۵؍مظاہرین پرایف آئی آر درج۔ طلبہ یونین اے آئی ایس ایف کے ریاستی سیکریٹری کوچوٹیں آئیں۔

Protest outside Chhatrapati Shivaji Maharaj Terminus. Photo: INN
چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمنس کے باہر احتجاج۔ تصویر: آئی این این

جنتر منتر پربھوک ۲۰؍دن سے ہڑتال کرنے والے سونم وانگ چک کے ساتھ سنیچر کودہلی پولیس کی زبردستی کے خلاف اور طلبہ کی حمایت میں چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمنس کے باہر احتجاج کرنے والوں کوپولیس نے تحویل میں لے لیا۔ تحویل میں لئے جانے والوں میں سے ۵؍ مظاہرین پر ایف آئی آر درج کی گئی۔ یہ احتجاج ممبئی میں طلبہ کی یونینوں کی جانب سے کیا جارہا تھا۔ احتجاج شروع ہوتے ہی پولیس حرکت میں آئی اورکئی مظاہرین کو وین میں بٹھاکر یلوگیٹ پولیس اسٹیشن لایا گیا، ان کو شام کو چھوڑا گیا۔ 
اس احتجاج میں طلبہ یونین اے آئی ایس ایف کے ریاستی سیکریٹری عامر قاضی کوچوٹیں آئیں، انہیں پولیس جی ٹی اسپتال لے گئی، وہاں طبی امداد پہنچانے کے بعد رخصت کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: مدارس کے حساب کتاب میں شفافیت اور نظام کو مستحکم کرنا وقت کی اہم ضرورت

عامر قاضی نے نمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ ہم سب کے احتجاج کے خلاف پولیس کی جانب سے کی گئی زور زبردستی اور تحویل میں لینے کے دوران میرے کمر میں شدید چوٹ آئی۔ اس کے بعد پولیس مجھے اسپتال لے گئی، اسپتا ل میں ڈاکٹروں نے معائنہ کیا اورطبی امداد مہیاکرانے کے بعد شام ۶؍ بجے چھٹی دی گئی۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایاکہ ’’چونکہ کمر میں شدید چوٹ آئی ہے اس لئے پیر کے دن ڈاکٹرنے ایم آر آئی کے لئے بلایا ہے۔ ‘‘
اے آئی ایس ایف کے ریاستی سیکریٹری نےیہ بھی بتایاکہ ’’ ان کے ساتھ ان کے دیگر ۴؍ساتھیوں تبریز سید، شبھم، جیش اور سورنا کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ‘‘ عامرقاضی نے مزیدکہاکہ ’’ ہم لوگ پیپرلیک، طلبہ اور نوجوانوں کے دیگر مسائل کے خلاف آواز بلند کرنےکے ساتھ جنترمنترپر جاری احتجاج کے تعلق سےاظہارِ یکجہتی کررہے ہیں، یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK