سپریم کورٹ نے بوریولی میں غیر قانونی قبضہ معینہ مدت میں نہ ہٹانے کو دانستہ حکم عدولی قرار دیا، شہری انتظامیہ سے جواب طلب۔
EPAPER
Updated: November 04, 2026, 11:11 AM IST | Agency | New Delhi/Mumbai
سپریم کورٹ نے بوریولی میں غیر قانونی قبضہ معینہ مدت میں نہ ہٹانے کو دانستہ حکم عدولی قرار دیا، شہری انتظامیہ سے جواب طلب۔
سپریم کورٹ نے ممبئی میں بی ای ایس ٹی بس اسٹینڈ کیلئے مختص زمین سے غیر قانونی قبضہ نہ ہٹانے اور اپنے احکامات پر عمل درآمد میں ناکامی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے کمشنر کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا ہے۔ عدالت نے میونسپل کارپوریشن کو مزید مہلت دینے سے انکار کرتے ہوئے۵؍ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا اور ہدایت دی کہ عدالتی احکامات کی تعمیل اور نوٹس پر فیصلہ ہونے تک کمشنر اور متعلقہ عملے کی تنخواہیں جاری نہ کی جائیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’ایس آئی آر میں ۳؍ کروڑ دراندازملے ہیں تو اُن کے نام عام کیوں نہیں کرتے‘‘
عدالت نے یہ کارروائی بوریولی میں بی ای ایس ٹی بس اسٹینڈ کیلئے مختص زمین سے تجاوزات ہٹانے کے سلسلے میں۱۳؍ نومبر۲۰۲۵ءاور۲۸؍ جولائی۲۰۲۶ءکو جاری کردہ حکم جس پر مقررہ مدت میں عمل درآمد کرنا تھا،عمل نہ ہونے کو ’’دانستہ حکم عدولی‘‘ قرار دیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوائے مالیا باغچی اور وی موہنا پر مشتمل بنچ نے اس تعلق سے مزید وقت طلب کرنے کی بی ایم سی کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے کہاکہ ’’ہم بادی النظر میں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کی کمشنر توہین عدالت کی مرتکب ہوئی ہیں۔‘‘