• Wed, 04 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کرشی بھون میں مسجد کو مودی سرکار نے ملک کی ’’سیکولر پہچان کے منافی‘‘ قرار دیا

Updated: November 04, 2026, 11:00 AM IST | Farzan Qureshi | New Delhi

کرشی بھون میں مسجد کو مودی سرکار نے ملک کی ’’سیکولر پہچان کے منافی‘‘ قرار دیا، ہائی کورٹ میں  اسے ہٹانے پر اصرار کیا۔

The old mosque at Krishi Bhawan. Photo: INN
کرشی بھون کی قدیمی مسجد۔ تصویر: آئی این این

سینٹرل وِستا پروجیٹ کے تحت کرشی بھون کی مسجد کو منہدم کرنے کیلئے  مرکزی حکومت  نے ہائی کورٹ میں اسٹیٹس رپورٹ داخل کی ہے۔اس  میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ مسجد سرکاری زمین پر بنی ہے۔ ۱۰۰؍ سال قدیم اس مسجد کے تعلق سے محکمہ کا کہنا ہے کہ تعمیر کام مکمل کرنے کیلئے مسجد کو ہٹانا ضروری ہے۔  حکومت کو موقف ہے کہ کرشی بھون میں مسجد ’’سیکولر پہنچان کے منافی‘‘ہے۔ مرکز کے مطابق  کرشی بھون اور سینٹرل سیکریٹریٹ احاطہ پوری طرح سے سیکولر عوامی احاطہ ہے جو صرف سرکاری ، انتظامی اور عوامی خدمات کے کاموں کیلئے  ہے۔

یہ بھی پڑھئے:دیا مرزا کے ویڈیو پر بی جے پی لیڈروں کے تبصروں سے بامبے ہائی کورٹ برہم

عدالت نے مرکزکی اسٹیٹس رپورٹ پر مسجد انتظامیہ کمیٹی اور دہلی وقف بورڈ کو اپنا اعتراض داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ یہ معاملہ تب شروع ہوا جب نئی دہلی میں قریب چار سال قبل سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کا آغاز ہوا تھا تب اس پروجیکٹ کے تحت وقف بورڈ کی ۶؍مساجد زد میں آرہی تھیں ، ان میں مان سنگھ روڈ واقع مسجد ضابطہ گنج ، ریڈ کراس روڈ واقع جامع مسجد ، ادھیوگ بھون واقع مسجد سنہری باغ ، موتی لال نہرو مارگ واقع مزار سنہری باغ ( جو توڑ دیا گیا ہے )، کرشی بھون کے اندرمسجد کرشی بھون اور نائب صدر جمہوریہ کی رہائش گاہ کے اندر کی مسجد شامل ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK