رہائشی اور تجارتی اداروں سے۲۲؍ ہزار کروڑ بقایاجات وصول کرنے کا ہدف۔ بی ایم سی نے پراپرٹی ٹیکس ادا نہ کرنےوالوں سے ٹیکس کی ادائیگی وقت پر کرنے کی اپیل کی۔ ٹیکس ادا نہ کرنے کی صورت میں جائیداد قرق کرنے اور جرمانہ عائد کرنے کاانتباہ۔
EPAPER
Updated: February 07, 2026, 10:47 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai
رہائشی اور تجارتی اداروں سے۲۲؍ ہزار کروڑ بقایاجات وصول کرنے کا ہدف۔ بی ایم سی نے پراپرٹی ٹیکس ادا نہ کرنےوالوں سے ٹیکس کی ادائیگی وقت پر کرنے کی اپیل کی۔ ٹیکس ادا نہ کرنے کی صورت میں جائیداد قرق کرنے اور جرمانہ عائد کرنے کاانتباہ۔
نئے پراپرٹی ٹیکس قواعد اور گزشتہ کئی برس سےرہائشی اورتجارتی اداروں کےٹیکس کی ادائیگی نہ کرنے پر شہری انتظامیہ نے سخت موقف اپناتے ہوئے تمام ۲۴؍ وارڈ کے متعلقہ افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ رہائشی اور تجارتی اداروں کے ۲۰۱۰ء سے بقایا ٹیکس کا جائزہ لیں اور ہر قیمت پر ٹیکس کی وصولیابی کو یقینی بنائیں ۔ بی ایم سی کے جاری کردہ نئے فرمان پر رہائشی اور تجارتی ادارے ہوشیار ہوجائیں، کیونکہ ٹیکس کی ادائیگی نہ کرنے پر شہری انتظامیہ نے ٹیکس کی رقم پر جرمانہ عائد کرنے کے علاوہ جائیدادوں کو قرق کرنے اورانہیں نیلام کرکے ٹیکس وصول کرنے کی ہدایت دی ہے۔ شہری انتظامیہ نے ٹیکسی کی وصولی کو یقینی بنانے کے لئے بی ایم سی ہیڈ کواٹر میں ایڈیشنل میونسپل کمشنر ( شہر) ڈاکٹر اشونی جوشی کی سربراہی میں ایک میٹنگ کا اہتمام کیا تھا۔ اس میٹنگ میں جوائنٹ کمشنر ( ٹیکس اسیسمنٹ اینڈکلیکشن ) ویشواس شنکر وار، اسسٹنٹ کمشنر گجانند پیلّے اور تمام متعلقہ ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن کے افسران بھی موجود تھے۔ گزشتہ ۱۵؍ برس کے ٹیکس بقایاجات کی وصولیابی کیلئے۲۲؍ ہزار کروڑ وصول کرنے کا ہدف رکھا گیاہے۔ میٹنگ میں موجود تمام ۲۴؍ وارڈ کے افسران و ملازمین کو ایڈیشنل میونسپل کمشنر ڈاکٹر اشونی جوشی نے ہدایت دی ہے کہ طویل عرصہ سے زیر التوا واجبات کو ادا کرنے کے لئے آج ہی سے مہم شروع کریں ۔
یہ بھی پڑھئے: تمام آن لائن گیمزپر پابندی عائدکرنےکا مطالبہ
انہوں نے خصوصی طور پر رہائشی اور تجارتی ایسے اداروں کونوٹس بھیجنے کی ہدایت دی ہے جنہوں نے بڑے پیمانے پر واجبات ادا نہیں کئے ہیں۔ ایڈیشنل کمشنر نے گزشتہ ۱۵؍ سال سے پراپرٹی ٹیکس کے واجبات ادا نہ کرنے والوں پر سود کےساتھ جرمانہ عائد کرنے اور جائیدادوں کو قرق کرنے کا بھی فرمان جاری کیا ہے۔ ایڈیشنل کمشنر کے بقول شہریوں سے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی شہری ادارہ کی آمدنی کا بنیادی حصہ ہے، اسلئے ۱۵؍ برس کا بقایا پراپرٹی ٹیکس جو تقریباً ۲۲؍ ہزار کروڑ روپے ہے، ٹیکس کے دائرے میں آنے والے تمام شہریوں سے ہر قیمت پر ٹیکس وصول کرنے کی ہدایت پر سختی سے عمل کریں ۔ واضح رہے کہ ۵؍ سو اسکوائر فٹ فلیٹ میں رہنے والوں کو گزشتہ چند برس سےٹیکس سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔ اطلاع کے مطابق ۲۰۱۵ء سے ٹیکس کی باقاعدہ وصولی نہ ہونے کے سبب بی ایم سی کا محکمہ محصول متاثر ہوا ہے۔ بی ایم سی کے ترتیب کردہ ریکارڈ کے مطابق گزشتہ سال یکم اپریل ۲۰۲۵ء تا ۴؍ فروری ۲۰۲۶ء کے درمیان رہائشی اور تجارتی اداروں سے ۵؍ کروڑ ۴۲۶ء۸۱؍ لاکھ پراپرٹی ٹیکس وصول کیا گیاہے۔ وہیں ٹیکس کی وصولی کے لئے ۲۲؍ ہزار کروڑ کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس ضمن میں ایڈیشنل میونسپل کمشنر ڈاکٹر اشونی جوشی نے کہا کہ ’’ٹیکس دہندگان کو بار بار ٹیکس اداکرنے کی تاکید کی جاتی رہی ہے اور مذکورہ مہم شروع کرنے کے ساتھ ہی شہریوں سے خصوصی طور پر رہائشی اور تجارتی اداروں سے اپیل کی جارہی ہے کہ وہ کسی عذر کے بغیر پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی کریں تاکہ انہیں سخت کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ‘‘
انہوں نے کہا کہ ٹیکس کی وصولی کے لئے تمام ہی وارڈ کے متعلقہ افسران کو نہ صرف بقایا ٹیکس وصول کرنے بلکہ ڈیفالٹرس کے خلاف نوٹس جاری کرکے ان پر سود کے ساتھ جرمانہ عائد کرنے کے علاوہ جائیدادوں کو بھی قرق کرنے کا فرمان جاری کیاگیا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ’’ جن ڈیفالٹر س کی جائیدادوں کو قرق کیا جائے گا انہیں ایک طے شدہ وقت میں پراپرٹی ٹیکس ادا کرنے کی مہلت دی جائے گی لیکن طے شدہ وقت میں ادائیگی نہ ہونے پر جائیداد کی نیلامی کرکے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ ‘‘