Inquilab Logo Happiest Places to Work

بولیویا: حکومت مخالف مظاہرے شدید، صدر کے استعفے کا مطالبہ تیز

Updated: May 25, 2026, 8:08 PM IST | Sucre

بولیویا میں جاری سیاسی و معاشی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں حکومت مخالف مظاہرین نے صدر روڈریگو پاز کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک بھر میں سڑکیں بند کر دی ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق نو انتظامی علاقوں میں ۵۹؍ مقامات پر شاہراہیں بلاک کی گئی ہیں، جبکہ سیکوریٹی فورسیز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ حکومت کی جانب سے انسانی راہداری کھولنے کی کوششوں کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

Photo : X
تصویر: ایکس

 بولیویا میں جاری شدید معاشی اور سیاسی بحران کے دوران حکومت مخالف مظاہروں میں مزید شدت آ گئی ہے جبکہ صدر دوڈریگو پاز کے استعفے کے مطالبات بھی زور پکڑتے جا رہے ہیں۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے ملک کے نو انتظامی علاقوں میں کم از کم ۵۹؍ مختلف مقامات پر سڑکیں اور اہم شاہراہیں بند کر دی ہیں، جس کے باعث نقل و حمل کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔ بولیوین ہائی وے ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین روڈ میپ کے مطابق لا پاز، ارورو اور پوتوسی کے اینڈین علاقوں کے ساتھ ساتھ چوکی ساکا، کوچا بامبا اور سانتا سیریا میں بھی ٹریفک اور ٹرانسپورٹ شدید متاثر رہی۔

یہ بھی پڑھئے : حج کی تیاریاں سعودی عرب کے’ ویژن۲۰۳۰ء‘ کی عکاس ہیں

حکومت نے لا پاز اور اورورو کے درمیان تقریباً ۲۲۷؍ کلومیٹر طویل شاہراہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے ’’وہائٹ فلیگ ہیومینٹیرین کوریڈور‘‘ نامی آپریشن شروع کیا، تاہم سیکوریٹی فورسیز کو مظاہرین کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے پولیس اور سرکاری قافلوں پر پتھراؤ کیا اور بارود سے بھری لاٹھیاں پھینکیں، جس کے بعد آپریشن عارضی طور پر معطل کرنا پڑا۔ موریسیو زمورا جو ملک کے وزیر تعمیرات عامہ ہیں، نے تصدیق کی کہ مظاہرین کے حملوں کے باعث آپریشن روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا، ’’میرے خلاف تیسرے حملے کے بعد میں واپس لا پاز پہنچ گیا ہوں۔ ہم صبح تقریباً دو بجے شہر پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔‘‘ زمورا نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت بحران کے حل کے لیے مظاہرین کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے۔

ادھر صدر روڈریگو پاز نے بھی کہا کہ وہ اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو حکومت ہنگامی حالت جیسے آئینی اقدامات پر غور کر سکتی ہے۔ دوسری جانب سابق صدر ایوو مورالیس نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بحران کے خاتمے کے لیے ۹۰؍ دن کے اندر نئے انتخابات کرائے جائیں۔ مورالیس کے مطابق موجودہ حکومت کو عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے فوری سیاسی فیصلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو صرف عوامی مینڈیٹ کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔


خیال رہے کہ یہ مظاہرے گزشتہ تقریباً تین ہفتوں سے جاری ہیں اور انہیں بولیویا کے گزشتہ ۴۰؍ برسوں کے بدترین معاشی بحران کے خلاف عوامی ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔ معاشی بحران کے باعث ملک میں مہنگائی، ایندھن کی قلت، بے روزگاری اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے عوامی غصے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ کئی شہروں، خاص طور پر لا پاز میں، مظاہرین اور سیکوریٹی فورسیز کے درمیان شدید جھڑپیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں، جبکہ حکومت کو خدشہ ہے کہ اگر صورتحال قابو میں نہ آئی تو ملک گیر بدامنی مزید پھیل سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK