Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا ۹۰؍ سالہ شخص ۴۳؍ سالہ آدمی گود لے سکتا ہے؟ بامبے ہائی کورٹ میں انوکھا مقدمہ

Updated: April 09, 2026, 9:01 PM IST | Mumbai

بامبے ہائی کورٹ میں ایک منفرد مقدمہ پیش ہوا ، جس میں عدالت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ۹۰؍ سالہ شخص ۴۳؍ سال کے آدمی کو گود لے سکتا ہے، یہ معاملہ۹۰؍ سالہ ڈاکٹر بمسی واڈیا سے متعلق ہے، جنہوں نے عدالت کا رخ اس وقت کیا جب حکام نے ان کی گود لینے کی دستاویز (ایڈاپشن ڈیڈ) کو رجسٹر کرنے سے انکار کر دیا۔

Bombay Highcourt.Photo:INN
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر:آئی این این

بمبئی ہائی کورٹ کے سامنے ایک نایاب اور پیچیدہ قانونی مقدمہ پیش ہوا ہے کہ کیا۹۰؍ سالہ شخص ۴۳؍ سالہ مرد کو گود لے سکتا ہے اور پورے خاندان کو اس رشتے میں لا کر اپنا نام اور ورثہ آگے بڑھا سکتا ہے؟یہ معاملہ ۹۰؍سالہ ڈاکٹر بمسی واڈیا سے متعلق ہے۔ درخواست گزار کے وکیل سریش مانے نے انڈیا ٹوڈے کو بتایا کہ ڈاکٹر واڈیا غیر شادی شدہ ہیں اور برسوں سے اکیلے رہ رہے ہیں۔ ان کی قریبی رشتہ دار بہن کا انتقال ہو چکا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے ایک قریبی ساتھی ان کی دیکھ بھال کر رہا ہے، دیکھ بھال ، ذہنی اور جذباتی مدد فراہم کرتا ہے۔ یہ شخص، راجیو جھا (۴۳؍ سال)، اپنے بیوی بچوں سمیت ڈاکٹر واڈیا کے ساتھ رہتا ہے۔وکیل کے مطابق، ڈاکٹر واڈیا زندگی کے آخری حصے میں یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ کوئی ان کا نام و نشان آگے بڑھائے، چنانچہ انہوں نے اپنے دیرینہ نگہبان کو گود لینے کا انتخاب کیا۔ڈاکٹر واڈیا نے وصیت، پاور آف اٹارنی اور حلفنامے جیسی قانونی رسمیات مکمل کر لی تھیں، لیکن جب انہوں نے ممبئی رجسٹرار کو گود لینے کی دستاویز پیش کی تو اسے مسترد کر دیا گیا۔
وکیل کے مطابق، حکام نے یہ کہہ کر درخواست مسترد کر دی کہ ہندوستان میں کسی بالغ شخص کو گود نہیں لیا جا سکتا کیونکہ ایسا کوئی قانون موجود نہیں۔اس کے بعد درخواست گزار نے بمبئی ہائی کورٹ کا رخ کیا، جس میں مرکز اور ریاستی حکومت کو ہدایت دینے کی استدعا کی گئی کہ وہ اس سلسلے میں رہنما اصول وضع کریں اور اس مخصوص کیس میں بھی ریلیف فراہم کریں۔جس شخص کو گود لیا جانا ہے، اس نے اور اس کی بیوی نے حلفناموں کے ذریعے رضامندی دی ہے، جو درخواست کا حصہ ہیں۔ دونوں خاندان پہلے سے ساتھ رہ رہے ہیں۔تاہم یہ کیس وسیع تر قانونی سوالات اٹھاتا ہے۔ موجودہ قوانین جیسے ہندو ایڈاپشن اینڈ مینٹیننس ایکٹ اور جیوینائل جسٹس ایکٹ کے تحت، گود لینے کا عمل صرف نابالغ بچوں تک محدود ہے۔بعد ازاں وکیل نے کہا، ’’بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کیا ایک بالغ دوسرے بالغ کو گود لے سکتا ہے، کیونکہ ہمارے ملک میں ایسا کوئی قانون نہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی دفعات بعض غیر ملکی ممالک میں موجود ہیں۔اس معاملے میں بین المذاہب پہلو بھی شامل ہے، کیونکہ گود لینے والا اور گود لیا جانے والا مختلف برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔تاہم معاملہ سننے کے بعد، بامبے ہائی کورٹ نے مرکزی اور ریاستی حکومت دونوں سے جواب طلب کیا ہے۔ جبکہ اگلی سماعت۲۸؍ اپریل کو متوقع ہے، جب عدالت جوابات کا جائزہ لے کر آگے کی کارروائی کرے گی۔
واضح رہے کہ یہ مقدمہ ہندوستان میں بالغوں کی گود لینے، وراثت، اور موجودہ قانونی دائرہ عمل سے ہٹ کر خاندان کی تعریف کے حق پر ایک نئی قانونی بحث کا امکان پیدا کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK