Inquilab Logo Happiest Places to Work

بائیکاٹ کی بنا پر محمد دیپک کیلئے جم کا کرایہ ادا کرنا مشکل

Updated: May 26, 2026, 10:44 AM IST | Dehradun

خالی کرنے کی نوبت آگئی، بینک سے لئے گئے قرض کی ادائیگیوں میں  بھی دشواریوں  کا سامنا۔

Deepak Kumar. Photo: INN
دیپک کمار۔ تصویر: آئی این این

اتراکھنڈ میں  بزرگ مسلم دکاندار کو ہراساں  کرنے کے خلاف آواز بلند کرنے کی وجہ سے بھگوا عناصر کی دھمکیوں کا سامنا کرنے کے کئی ماہ بعد، دیپک کمار، جو اب ’’ محمددیپک‘‘ کے نام سے مشہور ہیں، اپنے جم سے بھی محروم ہو سکتے ہیں۔ مذکورہ واقعہ کے بعد ان کےجم کے بائیکاٹ کی جو مہم چلی اس سے محمد دیپک اب تک ابھر نہیں  پائے۔ 
حالانکہ جب ان کے جم کے بائیکاٹ کی مہم چلی تھی اور ممبران کی تعداد ۱۵۰؍ سے گھٹ کر ۱۵؍ رہ گئی تھی تو یکجہتی کے اظہار کے طور پر دہلی اور دیگر علاقوں  کے کئی افراد نے ممبرشپ حاصل کی تھی۔ آخر کار دیپک کے مطابق روزانہ آنے والے افراد کی تعداد دوبارہ تقریباً۷۰؍تک پہنچ گئی۔ تاہم، سماجی بائیکاٹ اور فرقہ وارانہ ماحول سے پیدا ہونے والے’’معاشی بائیکاٹ‘‘ نے ان پر گہرا اثر ڈالا، جس کی وجہ سے وہ اپنے جم کا ۴۰؍ ہزار روپے ماہانہ کرایہ ادا نہیں کر سکے۔ گھر بنانے کیلئے لئے گئے قرض کی ادائیگی بھی متاثر ہوئی اور اس کی قسطیں ادا کرنا مشکل ہو گیا۔ دیپک نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ جم مالک نے چار ماہ سے کرایہ ادا نہ ہونے پر جگہ خالی کرنے کو کہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: آگ لگا دی پیٹرول، ڈیزل کے دام نے

دیپک نے بتایاکہ ’’میں مستقل طور پر کرایہ ادا نہیں کر پا رہا تھا۔ حالانکہ حالات بہتر ہو رہے تھے کیونکہ جم میں   روزانہ تقریباً ۷۰؍ لوگ آنے لگے تھے۔ مگر جم کے مالک نے اشارہ کنائے میں  کہہ دیا ہے کہ وہ مجھے اس لئے بھی اپنی جگہ کرائے پر نہیں دینا چاہتا کہ میں نے’مسلمانوں کے لیے آواز اٹھائی‘تھی۔ ‘‘ دیپک نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے کچھ وکلا نے جم کی سالانہ ممبرشپ فیس ادا کرنے کی پیشکش کر کے ان کی مدد کی لیکن ان کے مطابق’’جم چلانے کے لیے اس سے زیادہ کی ضرورت تھی۔ ‘‘انہوں نے کہاکہ’’جب ممبرشپ مہم چل رہی تھی تو میں نے وہ رقم قرض کی قسطوں اور اپنے بچے کی فیس میں استعمال کی، اس لیے باقاعدگی سے کرایہ ادا نہیں کر سکا۔ اب مالک نے مجھے بے دخل کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ‘‘مارچ میں دیپک نے اپنے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرانے کیلئے اتراکھنڈ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ تحقیقات میں تعاون کیلئے دیپک کو سوشل میڈیا پر پیغامات یا ویڈیوز شیئر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے شفاف اور منصفانہ تحقیقات کو ضروری قرار دیتے ہوئے ان کی درخواست نمٹا دی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK