Inquilab Logo Happiest Places to Work

ورلڈ کپ نے اسٹیڈیم تو بھرے مگر کیا معیشت کو فائدہ ہوا؟

Updated: July 21, 2026, 9:05 PM IST | Washington

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کو تاریخ کا سب سے بڑا اور مالی اعتبار سے کامیاب ترین عالمی ٹورنامنٹ قرار دیا جا رہا ہے، مگر تازہ معاشی اعداد و شمار ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ فیفا نے ریکارڈ آمدنی حاصل کی، اسٹیڈیم تماشائیوں سے بھرے رہے اور میزبان شہروں میں سیاحت بڑھی، لیکن امریکہ، کنیڈا اور میکسیکو کی مجموعی معیشت پر اس کے اثرات توقعات سے کہیں کم رہے۔ ماہرین کے مطابق ورلڈ کپ نے مقامی کاروبار کو وقتی فائدہ ضرور پہنچایا، تاہم وسیع پیمانے پر معاشی انقلاب برپا نہیں ہو سکا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے اختتام کے بعد اب توجہ اس سوال پر مرکوز ہے کہ کیا دنیا کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ نے واقعی وہ معاشی انقلاب برپا کیا جس کے وعدے کیے جا رہے تھے؟ تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جواب اتنا سادہ نہیں۔ ایک طرف فیفا نے ریکارڈ آمدنی حاصل کی، اسٹیڈیم تقریباً ہر میچ میں مکمل بھرے رہے اور لاکھوں شائقین نے میزبان ممالک کا رخ کیا، مگر دوسری جانب امریکہ، کنیڈا اور میکسیکو کی مجموعی معیشت پر اس کے اثرات محدود رہے۔ رپورٹ کے مطابق ورلڈ کپ سے سب سے زیادہ فائدہ میزبان شہروں کے ہوٹلوں، ریستورانوں، بارز، ایئرلائنز، ٹرانسپورٹ اور خوردہ تجارت کو ہوا۔ کئی شہروں میں ہوٹلوں کی بکنگ ریکارڈ سطح پر پہنچی اور کھیلوں سے وابستہ کاروبار میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ یہ زیادہ تر عارضی اور مقامی نوعیت کا فائدہ تھا، جس نے قومی معیشت کی رفتار میں کوئی بڑی تبدیلی پیدا نہیں کی۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسپین: تاریخ رقم، بیک وقت ۲؍ فیفا ورلڈ کپ ٹائٹل (مرد و خواتین) والا پہلا ملک بنا

امریکہ میں بینک آف امریکہ کے اعداد و شمار کے مطابق صارفین کے اخراجات میں اضافہ ضرور ہوا، لیکن روزگار، صنعتی پیداوار اور مجموعی اقتصادی ترقی جیسے اہم اشاریوں میں کوئی غیر معمولی تبدیلی ریکارڈ نہیں کی گئی۔ اسی طرح میکسیکو میں بھی ابتدائی اندازوں کے برعکس ورلڈ کپ کا معاشی اثر توقع سے کم رہا۔ بعض تجزیہ کاروں نے واضح کیا کہ غیر یقینی تجارتی ماحول اور سرمایہ کاری میں سستی نے ورلڈ کپ کے ممکنہ فوائد کو محدود کر دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: فیفا ۲۶ء: اسپین کی انعامی رقم ۲۰؍ کرکٹ ٹیموں سے زیادہ

اس کے برعکس فیفا کے لیے یہ ٹورنامنٹ غیر معمولی مالی کامیابی ثابت ہوا۔ نشریاتی حقوق، اسپانسرشپ، ٹکٹوں، مہمان نوازی اور تجارتی سرگرمیوں کی بدولت تنظیم کی آمدنی تقریباً ۱۵؍ ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو اس کے ابتدائی تخمینوں سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ یوں فیفا مالی اعتبار سے اس عالمی کپ کا سب سے بڑا فاتح بن کر سامنے آیا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بڑے کھیلوں کے مقابلوں سے مقامی کاروبار، سیاحت اور عالمی تشہیر کو ضرور فائدہ پہنچتا ہے، لیکن مستقل معاشی ترقی صرف ایک ٹورنامنٹ سے ممکن نہیں ہوتی۔ انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری، روزگار اور تجارتی پالیسیوں جیسے عوامل ہی طویل مدت میں کسی ملک کی معیشت کو مضبوط بناتے ہیں۔ اسی لیے ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء نے اگرچہ شاندار ماحول، ریکارڈ ہجوم اور اربوں ڈالر کی تجارتی سرگرمی پیدا کی، مگر مجموعی قومی معیشت پر اس کا اثر وعدوں کے مقابلے میں محدود رہا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK