• Wed, 16 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ غزہ میں بچوں کے قتل پر اب مزید خاموش نہیں رہے گا: فرسٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ

Updated: September 16, 2026, 5:03 PM IST | London

برطانیہ کی فرسٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ لوئیز ہائی نے یونین مندوبین کو بتایا کہ برطانیہ غزہ میں فلسطینی بچوں کے قتل کے دوران اب مزید خاموش نہیں رہے گا، ساتھ ہی انہوں نے اسرائیلی حکومت پر غیر قانونی بستیوں اور انتہا پسندانہ تشدد کو نشانہ بنانے والی نئی پابندیوں کے ذریعے دباؤ بڑھانے کا عہد کیا۔

UK First Secretary of State Louise Haigh. Photo: X
برطانیہ کی فرسٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ لوئیز ہائی۔ تصویر: ایکس

برطانیہ کی فرسٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ لوئیز ہائی نے منگل کو ٹریڈز یونین کانگریس کو بتایا کہ برطانیہ غزہ میں فلسطینی بچوں کے قتل کے دوران ’’اب مزید خاموش نہیں رہے گاجبکہ انہوں نے تسلیم کیا کہ لندن نے ان ہلاکتوں کی سنگینی کا ادراک کرنے میں بہت سست رویہ دکھایا۔ انہوں نے کہا، ’’ایسے وقت میں جب دنیا کو یہ یاد دلانا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے کہ ہم کون ہیں، ہم نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ ہم اب مزید خاموش نہیں رہیں گے جبکہ معصوم فلسطینی خاندان ٹکڑے ٹکڑے ہو رہے ہیں، جبکہ معصوم بچے غزہ میں مارے جا رہے ہیں، اور جبکہ دو ریاستی حل کی امید ہماری آنکھوں کے سامنے ختم ہو رہی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: میکلمور کی حمایت میں ایڈ شیران کے چاروں اوپنرز نے دورہ چھوڑ دیا

واضح رہے کہ ان کا یہ تبصرہ وزیر اعظم اینڈی برنہم کے اس جائزے کی بازگشت تھے کہ حکومت نے غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر ردعمل ظاہر کرنے میں بہت سست روی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہائی نے کہا کہ نئے نقطہ نظر میں لندن اسرائیلی حکومت پر دباؤ بڑھائے گا اور مشرق وسطیٰ میں امن کی امید کو زندہ رکھنے کے لیے ناانصافی کے خلاف کھڑا ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل مسجدِ اقصیٰ کے گرد نئی ”مذہبی حقیقت“ مسلط کرنے کی کوششیں کررہا ہے: یروشلم گورنریٹ کا انتباہ

مزید برآں ہائی نے کہا کہ گزشتہ ہفتے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کی جانب سے اعلان کردہ پابندیاں تنازع کے تئیں برطانیہ کے نقطہ نظر میں بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان اقدامات میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی اور بستیوں کی توسیع میں سہولت فراہم کرنے والی کمپنیوں اور افراد پر ہدفیپابندیاں شامل ہیں۔اضافی پابندیاں ان انتہا پسند اسرائیلی آباد کاروں کو نشانہ بنائیں گی جن پر فلسطینیوں کے خلاف تشدد کی حمایت یا اس پر اکسانے کا الزام ہے۔ ہائی نے کہا، ’’ہم جان بوجھ کر غیر قانونی بستیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، اسرائیلی حکومت پر دباؤ بڑھا رہے ہیں، اور مشرق وسطیٰ میں امن کی امید کو زندہ رکھنے میں مدد کر رہے ہیں۔‘‘  انہوں نے مزید کہا،’’ہم ناانصافی کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ ہم امن کے لیے کھڑے ہوں گے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK