Updated: September 15, 2026, 10:21 PM IST
| Jerusalem
یروشلم گورنریٹ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجدِ اقصیٰ کا پورے ۶ء۳۵ ایکڑ رقبہ پر مشتمل علاقہ خصوصی طور پر اسلامی عبادت گاہ کے طور پر نامزد ہے اور اس کی وقف حیثیت تمام صحنوں، ہالوں، دیواروں اور دروازوں بشمول باب الرحمہ کا احاطہ کرتی ہے۔ اس نے واضح کیا کہ اسرائیلی حکام مقبوضہ یروشلم کے مقدس مقامات پر کوئی خودمختاری نہیں رکھتے اور مسجد کی شناخت یا استعمال کو تبدیل کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتے۔
فلسطین کی یروشلم گورنریٹ نے پیر کے روز متنبہ کیا ہے کہ اسرائیلی گروہ مسجد اقصیٰ کے احاطے کی مشرقی دیوار کے ساتھ واقع باب الرحمہ قبرستان میں بار بار یہودی رسومات اور دعائیں ادا کرکے مسجدِ اقصیٰ کے گرد ایک نئی یہودی مذہبی موجودگی قائم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ گورنریٹ نے کہا کہ یہ اجتماعات تعطیلات سے جڑی کبھی کبھار کی جانے والی رسومات سے آگے بڑھ چکے ہیں اور اس مقام کو باقاعدہ جائے نماز میں تبدیل کرنے کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی وزیر ثقافت کا ’نازا‘ کے فلم سازوں کی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی
گورنریٹ کے مطابق، نام نہاد ”ہیکل گروپس“ یعنی وہ یہودی قوم پرست اور مذہبی تنظیمیں جو اس مقام پر یہودی ہیکل کی وکالت کرتی ہیں، نے سوشل میڈیا اور ایک واٹس ایپ گروپ کے ذریعے اس کوشش کو فروغ دیا ہے۔ وہ ایک ایسے مذہبی بیانیے کو پھیلا رہے ہیں جس میں باب الرحمہ کو خاص اہمیت دی کا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ مہم منظم ہفتہ وار دعائیہ اجتماعات کی شکل اختیار کر چکی ہے۔اس کا تعلق سابق اسرائیلی فوجی افسر اوری اوہائیون سے ہے، جس نے ۱۶ اگست کو اس اقدام کو فروغ دینا شروع کیا تھا۔ ۲۷ اگست، ۳ ستمبر اور ۱۰ ستمبر کو مزید ایسے اجتماعات منعقد کئے گئے، جن میں مسلمانوں کی قبروں کے قریب اجتماعی دعائیں کی گئیں۔
یروشلم گورنریٹ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجدِ اقصیٰ کا پورا ۶ء۳۵ ایکڑ رقبہ خصوصی طور پر اسلامی عبادت گاہ کے طور پر نامزد ہے اور اس کی وقف حیثیت تمام صحنوں، ہالوں، دیواروں اور دروازوں بشمول باب الرحمہ کا احاطہ کرتی ہے۔ اس نے واضح کیا کہ اسرائیلی حکام مقبوضہ یروشلم کے مقدس مقامات پر کوئی خودمختاری نہیں رکھتے اور مسجد کی شناخت یا استعمال کو تبدیل کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتے۔ گورنریٹ نے خبردار کیا کہ اس طرح کی رسومات کو معمول بنانا احاطے کے دیگر مقامات پر بھی ایسی ہی سرگرمیوں کے مزید پھیلاؤ کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسپتالوں میں قبل ازوقت پیدائش کا بحران، انکیوبیٹر کم پڑگئے
یروشلم گورنریٹ کا یہ بیان، اتوار کے روز ۵۹۳ اسرائیلی افراد کے مسجدِ اقصیٰ میں غیر مجاز داخلے کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ دخل اندازی ۱۱ سے ۱۳ ستمبر تک جاری رہنے والے نئے یہودی سال کے دوران فلسطینی نمازیوں پر عائد پابندیوں کے درمیان پیش آئی۔ یہ دراندازیاں ہیکل گروہوں کی جانب سے چھٹیوں کے دوران اس مقام کے دوروں میں شدت لانے کے نئے مطالبات کے عین مطابق تھیں۔ ۲۰۰۳ء سے، اسرائیلی پولیس نے یروشلم کے اسلامی اوقاف کے محکمے کے بار بار اعتراضات کے باوجود اس طرح کے داخلوں کی اجازت دی ہے، جس کے بارے میں فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہ مشرقی یروشلم کے عرب اور اسلامی تشخص کو تبدیل کرنے کی کوششوں کے ایک وسیع تر سلسلے کی عکاسی کرتا ہے۔