Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ: دو تہائی ملک خشک سالی کی گرفت میں، جولائی ۱۹۰؍ سالوں کا خشک ترین مہینہ

Updated: August 12, 2026, 1:58 PM IST | London

برطانیہ کا دو تہائی حصہ خشک سالی کی زدمیں ہے، جبکہ حالیہ جولائی ۱۹۰؍ سالوں کا خشک ترین سال تھا،مشرقی مڈلینڈز، لنکن شائر اور نارتھمپٹن شائر، کینٹ اور مشرقی سسیکس، اور سولینٹ اور ساؤتھ ڈاؤنز کو پیر کو خشک سالی کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

برطانیہ کا دو تہائی حصہ خشک سالی کی زدمیں ہے، جبکہ حالیہ جولائی ۱۹۰؍ سالوں کا خشک ترین سال تھا،مشرقی مڈلینڈز، لنکن شائر اور نارتھمپٹن شائر، کینٹ اور مشرقی سسیکس، اور سولینٹ اور ساؤتھ ڈاؤنز کو پیر کو خشک سالی کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔یہ علاقے انگلینڈ کے تقریباً نصف حصے اور پورے ویلز کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں، جو پہلے ہی خشک سالی کے اثرات کا سامنا کر رہے تھے۔یہ فیصلہقومی خشک سالی  گروپ نے کیا، جس میں ریگولیٹرز، سرکاری اہلکار، پانی کی کمپنیاں اور زرعی تنظیمیں شامل ہیں۔گروپ کے مطابق، گزشتہ ہفتے اعلان کردہ علاقوں کے ساتھ اب ملک کا بیشتر حصہ ( ۷۱؍ اعشاریہ ۳؍فیصد) اچانک خشک سالی کا شکار ہے، جو بہت کم بارش اور زیادہ درجہ حرارت کے امتزاج سے بہت تیزی سے پیدا ہوتی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: گرین لینڈ کا ٹرمپ سے منسلک آئل کمپنی کو غیر مجاز ڈرلنگ پر انتباہ!

اس نے مزید کہا کہ تقریباً ساڑھے ۴؍کروڑ افراد اب برطانیہ کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں رہ رہے ہیں، جن میں سے۲؍ کروڑ ۷۰؍ لاکھ  سے زیادہ افراد پانی کے استعمال پر پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔قومی خشک سالی گروپ کے چیئرمین ٹونی گرے لنگ نے ایک بیان میں کہا، ’’خشک سالی کے حالات بگڑ رہے ہیں اور اس وقت تک بگڑتے رہیں گے جب تک کہ قابلِ ذکر اور مسلسل بارش نہ ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ گرم اور خشک موسم کاشتکاری پر بہت منفی اثر ڈال رہا ہے اور ہمارے ماحول پر دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔’’پانی کی وزیر ایما ہارڈی، جو پیر کو نیشنل ڈراٹ گروپ کی میٹنگ میں شریک ہوئیں، نے بھی کہا، ’’ہم جانتے ہیں کہ یہ موسم گرما کتنا مشکل رہا ہے، خاص طور پر ہمارے محنتی کسانوں کے لیے جو موسمیاتی تبدیلی اور سیلابوں اور خشک سالی کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مرکزی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ’’نو مارک پروجیکٹ‘‘ ملک میں لگائے گئے ایک لاکھ سے زائد اے آئی کیمرون کو ہٹانے کیلئے سرگرم

انہوں نے مزید زور دے کر کہا: "ہم اپنی مدد میں اضافہ کر رہے ہیں، جس میں کسانوں کے لیے اپنے فارم پر مزید آبپاشی کے ذخائر بنانا آسان بنانا شامل ہے۔ ہم پانی کی صنعت میں طویل مدتی تبدیلیاں بھی لا رہے ہیں تاکہ لیکس کو کم کیا جا سکے اور پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے نو نئے ذخائر اور پانی کی منتقلی کے منصوبے بنائے جا سکیں۔‘‘ بعد ازاں پورے برطانیہ میں گرمی کی صحت سے متعلق الرٹ کو بڑھتے ہوئے درجہ حرارت والے ہفتے سے قبل اپ گریڈ کر دیا گیا ہے، جس میں جمعرات کو جنوب مشرق میں۳۶؍ ڈگری سیلسیس تک بلند درجہ حرارت کی پیش گوئی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ، یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی (UKHSA) نے کہا کہ برطانیہ میں مئی اور جون کی گرمی کی لہروں کے دوران۲۸۷۷؍ اضافی اموات درج کی گئیں، جو۲۰۲۵ء کے موسم گرما کے دوران درج کی گئی۱۵۰۴؍ اضافی اموات سے تقریباً دگنی ہیں۔۳۰؍ جولائی کو جب مسلسل بلند درجہ حرارت کی وجہ سے حالات بگڑ رہے تھے، ویلز کے پورے حصے کے لیے خشک سالی کا اعلان کیا گیا تھا، جبکہ گزشتہ ماہ برطانیہ کے نصف حصے میں بھی ریکارڈ کم بارش اور مسلسلبلند درجہ حرارت کے بعد خشک سالی کا اعلان کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: لبنان اسرائیل کے ساتھ سرحدی نقشے پر براہِ راست مذاکرات روک دے: حزب اللہ

 ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق شدید گرمی کے سبب صحت اور سماجی نگہداشت کے شعبوں میں نمایاں اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، جس میں اموات میں ممکنہ اضافہ بھی شامل ہے۔ جبکہ یہ الرٹ جمعہ کی شام تک نافذ رہیں گے۔گرمی کی لہر کے عروج پر انگلینڈ اور ویلز کے بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت۳۰؍ سے ۳۵؍ ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ ہفتے کے بیشتر حصے میں انگلینڈ اور ویلز میں بہت کم یا کوئی بارش نہیں ہوگی۔ تقریباً دو مہینوں میں بہت سے علاقوں میں پہلی نمایاں بارش اتوار کو آ سکتی ہے، جب بحر اوقیانوس سے ویلز اور جنوبی انگلینڈ کے اوپر کم دباؤ اور بارش لانے والے بادل داخل ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK