Updated: August 03, 2026, 8:31 PM IST
| London
بین الاقوامی پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والی کمپنی EY نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) طویل عرصے تک بند رہی تو برطانیہ کی معیشت شدید دباؤ میں آ سکتی ہے اور ۲۰۲۷ء میں کساد بازاری (Recession) کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے مہنگائی، کاروباری اخراجات اور صارفین کی قوتِ خرید بری طرح متاثر ہوگی، تاہم اگر آبنائے ہرمز رواں سال ستمبر تک دوبارہ کھل جاتی ہے تو برطانیہ کساد بازاری سے بچ سکتا ہے۔
بین الاقوامی اکاؤنٹنگ اور مشاورتی ادارے EY نے اپنی تازہ اقتصادی پیش گوئی میں خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بندش آئندہ سال تک برقرار رہی تو برطانیہ کی معیشت کساد بازاری کا شکار ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور توانائی کی سپلائی میں رکاوٹ برطانوی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ ای وائی یوکے کے چیف اکنامسٹ پیٹر آرنالڈ نے کہا کہ ’’اگر آبنائے ہرمز آئندہ چند ماہ میں دوبارہ کھل جاتی ہے تو ہم توقع کرتے ہیں کہ برطانیہ زیادہ شدید معاشی بحران سے بچ جائے گا، لیکن اگر یہ بندش ۲۰۲۷ءتک برقرار رہی تو مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور اگلے سال معیشت سکڑ سکتی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ۴؍ ماہ بعد غیر ملکی سرمایہ کاروں کا فروخت کا سلسلہ تھم گیا
رپورٹ کے مطابق EY نے اپنے بنیادی منظرنامے میں ۲۰۲۶ء کے لیے برطانیہ کی معاشی ترقی (GDP Growth) کی پیش گوئی معمولی بڑھا کر ۸ء۰؍ فیصد کر دی ہے، جبکہ ۲۰۲۷ء نیں ۲ء۱؍ فیصد ترقی کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ تاہم یہ اندازہ اس مفروضے پر مبنی ہے کہ آبنائے ہرمز ستمبر ۲۰۲۶ء کے اختتام تک دوبارہ کھل جائے گی۔ ادارے نے متبادل اور زیادہ منفی منظرنامہ بھی پیش کیا ہے، جس کے مطابق اگر بندش برقرار رہی تو برطانوی معیشت ۲۰۲۷ء میں سکڑ سکتی ہے، جبکہ مہنگائی بڑھ کر ۴ء۶؍ فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جو اگست ۲۰۲۳ء کے بعد بلند ترین سطح ہوگی۔ اس صورت میں تیل کی قیمت ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنے اور قدرتی گیس کی قیمتیں ۲۰۲۰ء کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توانائی کی بڑھتی قیمتوں سے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ کاروباری ادارے بھی متاثر ہوں گے۔ EY کے مطابق کاروباری سرمایہ کاری میں ۷ء۰؍ فیصد کمی آ سکتی ہے، جبکہ بلند توانائی لاگت اور غیر یقینی صورتحال کے باعث کمپنیوں کے اعتماد میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ ادھر بینک آف انگلینڈ بھی پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی مزید بڑھی تو مہنگائی میں دوبارہ نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے باعث شرحِ سود میں کمی مؤخر کرنا پڑ سکتی ہے۔ برطانوی حکومت بھی ایندھن اور خوراک کی قیمتوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ صارفین پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
یہ بھی پڑھئے: بین الاقوامی ایف ایم سی جی کمپنیوں کا ہندوستان کے ریٹیل شعبہ موجودگی بڑھانے کا اشارہ
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر یہ راستہ طویل عرصے تک بند رہا تو اس کے اثرات صرف برطانیہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یورپ اور دیگر درآمد کنندہ معیشتیں بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔