• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانوی وزیر اعظم کا یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا اشارہ

Updated: September 30, 2026, 10:18 PM IST | London

برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا اشارہ دیا ہے،وزیر اعظم، جنہوں نے بریگزٹ کو ایک دہائی کے جمود اور تقسیم کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، نے کہا کہ صرف اس مسئلے کو معلق چھوڑ دینا کافی نہیں ہے۔

British Prime Minister Andy Burnham. Photo: X
برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنہم۔ تصویر: آئی این این

برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا اشارہ دیا ہے،وزیر اعظم نے کہا کہ ایک آپشن سابق چانسلر جارج اوسبورن کے اس مطالبے کی حمایت کرنا ہے، جو انہوں نے دی انڈیپنڈنٹ کو انٹرویو میں یورپی یونین کسٹمز یونین میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے کیا تھا۔اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ وہ بریگزٹ کو واپس لینے کے لیے تیار ہیں، اور اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ یورپی یونین میں دوبارہ شامل ہونے کی تجویز میں آخر ی حد تک جا سکتے ہیں۔وزیر اعظم، جنہوں نے بریگزٹ کو ایک دہائی کے جمود اور تقسیم کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، نے کہا کہ صرف اس مسئلے کومعلق  چھوڑ دیناکافی نہیں ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ برطانیہ دوبارہ بلاک میں شامل ہو، تو انہوں نے بی بی سی کے ٹوڈے پروگرام کو بتایا کہ وہ برسلز کے ساتھ برطانیہ کے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے تمام متبادل کے ’’فائدے اور نقصان‘‘ کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: روس: مسلح افواج کی تعداد میں اضافہ، پوتن نے۲۴؍ لاکھ اہلکاروں کی منظوری دے دی

بعد ازاںبرنہم نے کہا کہ ایک اور امکان سابق ٹوری چانسلر جارج اوسبورن کے یورپی یونین کسٹمز یونین میں دوبارہ شامل ہونے کے مطالبے کی حمایت کرنا ہے، یہ مطالبہ اوسبورن نے اس ماہ کے شروع میں دی انڈیپنڈنٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا تھا۔ انہوں نے پروگرام کو بتایا،’’ہم جیسے ہیں ویسے ہی رہ سکتے ہیں۔ یہ یقینی طور پر ایک متبادل ہے، اگر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہی رہنے کی صحیح جگہ ہے۔ہم دیکھ سکتے ہیں کہ جارج اوسبورن نے کسٹمز یونین کے بارے میں کیا کہا ہے، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ لبرل ڈیموکریٹس نے اپنی کانفرنس میں سنگل مارکیٹ کے بارے میں کیا کہا یا ہم آخر تک جا سکتے ہیں۔‘‘  اوسبورن نے دی انڈیپنڈنٹ کو بتایا کہ اگرچہ یورپی یونین میں واپسی مشکل ہوگی، کسٹمز یونین میں دوبارہ شامل ہونے سے برطانیہ کی معیشت پر کچھ دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔
جبکہ لیڈر کے طور پر اپنی پہلی لیبر پارٹی کانفرنس تقریر میں، وزیر اعظم نے کہا کہ برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کے فیصلے نے ’’فائدے سے زیادہ نقصان‘‘ پہنچایا ہے اور وعدہ کیا کہ وہ اس سال کے آخر میں برطانیہ-یورپی یونین سربراہی اجلاس کے وقت ملک کے سامنے متبادل پیش کریں گے۔واضح رہے کہ ۲۰۲۴ءمیں لیبر کے انتخابی منشور میں کسٹمز یونین میں شامل ہونے، سنگل مارکیٹ میں واپس جانے یا یورپی یونین کے ساتھ نقل و حرکت کی آزادی کی واپسی کی اجازت دینے کو مسترد کر دیا گیا تھا۔لیکن برنہم نے اشارہ دیا ہے کہ وہ مستقبل میں ان ریڈ لائنز سے آگے جانے کی سفارش کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے بی بی سی کو بتایا،’’"واضح طور پر ایسے آپشنز ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے، اور ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کیا قابل عمل ہے اور ہر ایک کے فائدے اور نقصان کیا ہوں گے ۔

یہ بھی پڑھئے: چین: اے آئی ٹیلنٹ سے وابستہ اعلیٰ انجینئروں،افسران کے غیر ملکی سفر پر قدغن

ان کا تازہ ترین بیان نمبر۱۰؍ میں داخل ہونے کے بعد اب تک کا سب سے واضح  بیان ہے جس میں انہوں نے ایک دہائی قبل یورپی یونین چھوڑنے کے تاریخی فیصلے کو مکمل طور پر واپس لینے کے امکان کو اٹھایا ہے۔اس کا مطلب۲۰۱۶ء کے یورپی یونین ریفرنڈم کو واپس لینا ہوگا، اور اس سے اس معاملے پر دوسرا ریفرنڈم ہو سکتا ہے۔تاہم برنہم کے اس اقدام کو فوری طور پر کنزرویٹوز نے تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے ان پر بریگزٹ کی سالوں کی لڑائیوں کو دوبارہ شروع کر کے پرانے زخموں کو کریدنے کی کوشش کا الزام لگایا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK