کیئر اسٹارمر نے عوامی مقامات پر مسلمانوں کی نماز کے حق کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کنزرویٹو پارٹی کو مسلمانوں سے مسئلہ ہے۔
EPAPER
Updated: March 19, 2026, 7:20 PM IST | London
کیئر اسٹارمر نے عوامی مقامات پر مسلمانوں کی نماز کے حق کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کنزرویٹو پارٹی کو مسلمانوں سے مسئلہ ہے۔
برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے لندن میں مسلمانوں کے عوامی مقامات پر عبادت کے حق کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کنزرویٹو پارٹی پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعت کا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ اسے مسلمانوں کے ساتھ مسئلہ ہے۔ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب کنزرویٹو پارٹی کے رکن نک ٹموتھی نے ٹریفلگر اسکوائر میں ہونے والی اجتماعی نماز پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’’غلبہ اور تقسیم کا عمل‘‘ قرار دیا۔ اس تقریب میں لندن کے میئر صادق خان بھی شریک تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کی پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملہ، گیس کی پیداوار معطل
پارلیمنٹ میں گفتگو کے دوران اسٹارمر نے کہا، ’’جب میں ٹریفلگر اسکوائر میں مختلف مذاہب کی تقریبات دیکھتا ہوں، چاہے وہ دیوالی ہو، ہنوکا ہو یا عیسائی مذہبی جلوس، یا مسلمانوں کی نماز، یہ ہمارے متنوع معاشرے کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کنزرویٹو پارٹی صرف مسلمانوں کی عبادت پر اعتراض کرتی ہے، جس سے اس کے رویے پر سوال اٹھتا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ’’یہ صرف اس وقت مسئلہ بنتا ہے جب مسلمان نماز پڑھتے ہیں، جس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ٹوری پارٹی کو مسلمانوں کے ساتھ مسئلہ ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: دنیا کا واحد ملک افغانستان، جہاں آج عید منائی جا رہی ہے!
دوسری جانب کنزرویٹو قیادت نے اپنے رکن کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’برطانوی اقدار‘‘ کی حفاظت کی بات کر رہے تھے۔ تاہم اسٹارمر نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات نہ صرف تقسیم پیدا کرتے ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے کنزرویٹو لیڈر کیمی بیڈنوک سے مطالبہ کیا کہ وہ ان بیانات کی مذمت کریں اور متعلقہ رکن کے خلاف کارروائی کریں۔ اسٹارمر نے یہ بھی کہا کہ ایسے خیالات انتہائی دائیں بازو کے بیانیے سے ملتے جلتے ہیں، جس سے برطانوی سیاست میں خطرناک رجحانات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ میں مذہبی آزادی، تنوع اور سماجی ہم آہنگی جیسے موضوعات پر بحث تیز ہو رہی ہے، اور مختلف کمیونٹیز کے حقوق پر سیاسی اختلافات نمایاں ہو رہے ہیں۔