Inquilab Logo Happiest Places to Work

عید سے قبل افغانستان اور پاکستان میں عارضی جنگ بندی کا اعلان

Updated: March 19, 2026, 8:07 PM IST | Karachi

افغانستان اور پاکستان نے عید الفطر سے پہلے جنگ میں وقفے کا اعلان کیا، تاہم دونوں جانب کشیدگی اور الزامات برقرار ہیں۔

A building damaged in the Pakistani attack. Photo: PTI
پاکستان کے حملے میں تباہ شدہ ایک عمارت۔ تصویر: پی ٹی آئی

افغانستان نے پاکستان کے ساتھ جاری جھڑپوں میں عارضی توقف کا اعلان کر دیا ہے، جس کی تصدیق افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کی۔ اس سے قبل پاکستان بھی اسی نوعیت کے جنگی وقفے کا اعلان کر چکا تھا۔ دونوں ممالک کے مطابق یہ فیصلہ سعودی عرب، ترکی اور قطر کی جانب سے جنگ بندی کی اپیل کے بعد کیا گیا۔ یہ پیش رفت ایک شدید حملے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں افغان حکام نے الزام لگایا کہ پاکستان نے کابل میں ایک منشیات بحالی اسپتال کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ افغان حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد ۴۰۸؍ تک پہنچ گئی جبکہ ۲۶۵؍  افراد زخمی ہوئے، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

یہ بھی پڑھئے: دنیا کا واحد ملک افغانستان، جہاں آج عید منائی جا رہی ہے!

دوسری جانب پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے حملے صرف عسکری تنصیبات پر کیے گئے تھے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ طرار نے کہا، ’’ہم نے صرف دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، نہ کہ شہری مقامات کو۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ جنگ بندی بدھ کی آدھی رات سے نافذ ہو گی اور پیر تک جاری رہے گی۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ’’نیک نیتی اور اسلامی اصولوں‘‘ کے تحت کیا گیا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی سرحد پار حملے یا دہشت گردی کی صورت میں کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی جائیں گی۔
یاد رہے کہ یہ تنازعہ فروری کے آخر سے شدت اختیار کر چکا ہے، جب دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں اور فضائی حملے شروع ہوئے۔ پاکستان افغانستان پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان کو پناہ دیتا ہے، جبکہ کابل اس الزام کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے۔ کابل میں ہونے والے حالیہ حملے کے بعد اجتماعی تدفین کے مناظر بھی سامنے آئے، جہاں درجنوں لاشوں کو دفن کیا گیا۔ حکام کے مطابق کئی لاشوں کی شناخت ممکن نہیں ہو سکی، جبکہ امدادی ٹیمیں ملبے تلے مزید افراد کو تلاش کرتی رہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مقبوضہ مغربی کنارے سے ’فلسطینیوں کا جبری اجتماعی اخراج‘، اقوام متحدہ کا انتباہ

یہ تنازعہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش کا باعث بن چکا ہے، کیونکہ اس خطے میں داعش اور القاعدہ جیسے گروہ بھی موجود ہیں، جو عدم استحکام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اگرچہ عید الفطر کے پیش نظر عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی اور کشیدگی بدستور برقرار ہے، جس سے مستقبل میں حالات کے مزید بگڑنے کا خدشہ موجود ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK