• Sat, 07 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دولتِ مشترکہ کی بعض قلمروؤں میں بادشاہ کو سربراہِ مملکت کے عہدے سے ہٹانے کیلئے بکنگھم پیلس تیار

Updated: November 07, 2026, 9:14 PM IST | London

بکنگھم پیلس کے ایک ترجمان نے کہا کہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہر ریاست کی صوابدید ہے۔ بادشاہ اس وقت تک سربراہِ مملکت کے طور پر خدمت کرنے کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں جب تک وہ چاہیں، لیکن اگر وہ کوئی مختلف راستہ منتخب کرتے ہیں تو وہ اسی طرح ان کی حمایت کرتے ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ آنجہانی ملکہ کے دورِ حکومت میں ۱۷ ممالک جمہوریہ بنے تھے، اس لئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔

Picture: X
شاہ چارلس، ملکہ کے ساتھ۔ تصویر: ایکس

بکنگھم پیلس نے اشارہ دیا ہے کہ اگر دولتِ مشترکہ کی قلمروئیں (Commonwealth realms) شاہ چارلس کو اپنے سربراہِ مملکت کے عہدے سے ہٹانا چاہیں تو اسے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ایک سینئر معاون نے بتایا کہ شاہی خاندان اس خیال کیلئے ”مکمل طور پر تیار“ ہے اور انہیں ”اس پر قطعاً کوئی اعتراض نہیں ہے۔“

یہ بیانات شاہ چارلس کے کیریبین کے ۹ روزہ دورے کے اختتام کے بعد سامنے آئے ہیں، جس پر غلامی کے ازالے (reparations) کا مسئلہ حاوی رہا۔ حالیہ برسوں میں برطانیہ سے معافی اور ہرجانے کے مطالبات میں اضافہ ہوا ہے۔ دورے کے اختتام پر دولتِ مشترکہ کے سربراہی اجلاس کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے چارلس نے کہا کہ بحرِ اوقیانوس کے پار غلاموں کی تجارت میرے دل کو دہشت اور میری روح کو انتہائی گہرے ذاتی رنج و غم سے بھر دیتی ہے۔ تاہم انہوں نے کوئی معافی پیش نہیں کی۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عہدہ چھوڑنے کی خبروں کی تردید کی

سینئر معاون نے کہا کہ بادشاہ اور شاہی خاندان ان خطوں کے عوام کی اس وقت تک خدمت کرتے ہیں جب تک وہ چاہیں۔ اگر وہ مزید یہ نہیں چاہتے تو ایک نیا انتظام تلاش کیا جا سکتا ہے۔ معاون نے ۲۰۲۱ء میں جمہوریہ بننے والے کیریبین ملک بارباڈوس کی مثال دی اور کہا کہ ”یہ واقعی تمام تر اس بات پر منحصر ہے کہ ممالک کیا کرنا چاہتے ہیں۔“

معاون نے اس بات کی بھی تردید کی کہ وزیرِ اعظم کے اس بیان پر محل حیران رہ گیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ غلاموں کی تجارت میں برطانیہ کے کردار پر معافی مانگنے کیلئے تیار ہوں گے۔ معاون نے کہا کہ ان کی وزیرِ اعظم سے بات چیت ہوئی تھی اور انہیں بتایا گیا تھا کہ وہ اپنا مضمون (op-ed) کس طرح لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: گادی آئزن کوٹ کے وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار

معاون نے کیریبین کے حالیہ دورے کو پیچیدہ، چیلنجنگ اور تھکا دینے والا، لیکن ساتھ ہی ”انتہائی کامیاب“ قرار دیا۔ معاون نے کہا کہ بادشاہ نے حکمرانی اور سفارت کاری کی عمدہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور انہیں ”عظیم خفیہ ہتھیار“ قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ محل کو حکومتی پالیسی اور بادشاہ کے کردار کے درمیان ایک محتاط راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

شاہی محل کا بیان

بکنگھم پیلس کے ایک ترجمان نے کہا کہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہر ریاست کی صوابدید ہے۔ بادشاہ اس وقت تک سربراہِ مملکت کے طور پر خدمت کرنے کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں جب تک وہ چاہیں، لیکن اگر وہ کوئی مختلف راستہ منتخب کرتے ہیں تو وہ اسی طرح ان کی حمایت کرتے ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ آنجہانی ملکہ کے دورِ حکومت میں ۱۷ ممالک جمہوریہ بنے تھے، اس لئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK