Updated: August 03, 2026, 9:10 PM IST
| Kolkata
کولکاتا کے علی پور چڑیا گھر میں بھینس کے ذبیحے کی معطلی کے باعث شیروں اور شیرببروں کی خوراک میں عارضی تبدیلی کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ نے بتایا کہ بھینس کے گوشت کی سپلائی متاثر ہونے کے بعد جانوروں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے انہیں بکرے کا گوشت فراہم کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق جانوروں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، تاہم بکرے کے گوشت کی قیمت زیادہ ہونے سے چڑیا گھر کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
کولکاتا کے تاریخی علی پور چڑیا گھر میں بھینس کے گوشت کی فراہمی رک جانے کے بعد شیروں، شیرببروں اور دیگر گوشت خور جانوروں کی خوراک میں عارضی تبدیلی کر دی گئی ہے۔ چڑیا گھر کی انتظامیہ اب ان جانوروں کو بھینس کے گوشت کے بجائے بکرے کا گوشت فراہم کر رہی ہے تاکہ ان کی غذائی ضروریات متاثر نہ ہوں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جانوروں کی صحت اور خوراک کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اگرچہ اس فیصلے سے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ صورتحال کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے ذبح خانے سے متعلق لائسنسوں کی تجدید نہ ہونے کے باعث پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں بھینسوں کے ذبیحے کا عمل معطل ہو گیا۔ چونکہ علی پور چڑیا گھر میں بڑے گوشت خور جانوروں کی روزمرہ خوراک کا بڑا حصہ بھینس کے گوشت پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے سپلائی متاثر ہوتے ہی متبادل انتظام کرنا ناگزیر ہو گیا۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک: میئر ظہران ممدانی کی نانی پروین نائر ۹۴؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئیں
اس معاملے پر حال ہی میں ریاستی وزیرِ جنگلات منوج کمار اوراؤن کی صدارت میں ارنیہ بھون میں ایک اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں چڑیا گھر کو گوشت فراہم کرنے والے سپلائرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں سپلائرز نے بتایا کہ میونسپل لائسنسوں کی تجدید نہ ہونے کے باعث بھینسوں کا ذبیحہ ممکن نہیں رہا، جس کی وجہ سے سپلائی کا سلسلہ رک گیا ہے۔ وزیرِ جنگلات نے کہا کہ جب تک مسئلے کا مستقل حل نہیں نکلتا، جانوروں کو مساوی مقدار میں بکرے کا گوشت فراہم کیا جائے گا تاکہ ان کی غذائی ضروریات پوری ہوتی رہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے کولکاتا میونسپل کارپوریشن سے بات کی جائے گی۔
خوراک میں اس تبدیلی کے مالی اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔ دستیاب ٹینڈر دستاویزات کے مطابق علی پور چڑیا گھر کو سالانہ تقریباً ۵۱؍ ہزار کلو گرام بھینس کے گوشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہڈی کے بغیر بھینس کے گوشت کی قیمت تقریباً ۳۵۰؍ روپے فی کلوگرام جبکہ ہڈی والے گوشت کی قیمت تقریباً ۲۷۰؍ روپے فی کلوگرام مقرر ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً ۲۸۰۰؍ کلوگرام بھینس کے قیمے کی بھی سالانہ ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس بکرے کا گوشت کہیں زیادہ مہنگا ہے۔ بون لیس بکرے کے گوشت کی قیمت تقریباً ۷۲۸؍ روپے فی کلوگرام، ہڈی والے گوشت کی قیمت تقریباً ۶۹۵؍ روپے فی کلوگرام جبکہ بکرے کے قیمے کی قیمت تقریباً ۷۲۶؍ روپے فی کلوگرام بتائی گئی ہے۔ اگرچہ عام حالات میں بکرے کے گوشت کی سالانہ ضرورت صرف تقریباً ۹۸۰؍ کلوگرام رہتی ہے، لیکن موجودہ بحران کے دوران اسی گوشت پر انحصار بڑھنے سے چڑیا گھر کے بجٹ پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بریج بھوشن شرن سنگھ خاتون پہلوانوں کے جنسی ہراسانی کیس میں بری
ذرائع کے مطابق اس سے قبل متعدد سپلائرز ٹانگرا کے ذبح خانے سے بھینس کا گوشت حاصل کرکے علی پور چڑیا گھر کو فراہم کرتے تھے، لیکن اسمبلی انتخابات کے بعد سے وہاں بھینسوں اور گایوں کے ذبیحے کا عمل معطل ہے۔ بعض سپلائرز کا کہنا ہے کہ ان کے لائسنسوں کی تجدید نہیں ہوئی، تاہم اس بارے میں میونسپل حکام کی جانب سے باضابطہ طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ سپلائی معمول پر کب تک بحال ہوگی۔ چڑیا گھر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اولین ترجیح جانوروں کی صحت اور مناسب غذائیت کو یقینی بنانا ہے۔ اسی لیے متبادل انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ شیروں، شیرببروں اور دیگر گوشت خور جانوروں کی خوراک میں کوئی کمی نہ آئے۔ حکام کو امید ہے کہ لائسنسنگ سے متعلق مسئلہ حل ہونے کے بعد بھینس کے گوشت کی باقاعدہ سپلائی دوبارہ شروع ہو جائے گی اور خوراک کا سابقہ نظام بحال ہو سکے گا۔