الہاس نگر میںایک انتہائی مخدوش۴؍ منزلہ عمارت کو منہدم کرنے کی کارروائی کے دوران اس کا باقی ماندہ حصہ اچانک قریبی رہائشی مکانات پر جاگرا۔ اس حادثہ کے نتیجے میں پڑوسی مکان میں موجود ۳؍ مکین ملبے تلے دب گئے۔
ملبے تلے دبی خاتون کو ریسکیو اہلکاروں نے باہر نکالا-تصویر:آئی این این
الہاس نگر میںایک انتہائی مخدوش۴؍ منزلہ عمارت کو منہدم کرنے کی کارروائی کے دوران اس کا باقی ماندہ حصہ اچانک قریبی رہائشی مکانات پر جاگرا۔ اس حادثہ کے نتیجے میں پڑوسی مکان میں موجود ۳؍ مکین ملبے تلے دب گئے۔ تاہم واقعہ کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کے عملہ نے جنگی بنیادوں پر امدادی کارروائی شروع کی اور انتھک کوششوں کے بعد تینوں کو کسی شدید چوٹ کے بحفاظت باہر نکال لیاجس کے باعث ایک بڑا جانی نقصان ہونے سے ٹل گیا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق الہاس نگر میونسپل کارپوریشن نے کیمپ ۳؍ میں واقع پنچ مکھی نام کی ۴؍ منزلہ عمارت کو انتہائی مخدوش اور خطرناک قرار دیتے ہوئے اسے مسمار کرنے کا حکم دیا تھا۔میونسپل کارپوریشن کی نگرانی میں جدید مشینری کے ذریعے عمارت کی اوپری ۲؍ منزلوں کو بحفاظت گرا دیا گیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق اتوار کی شب جب باقی ماندہ ۲؍ منزلوں کو گرانے کا کام جاری تھا تو اچانک عمارت کا توازن بگڑ گیا اور وہ ایک زوردار دھماکہ کے ساتھ پڑوس کےگھروں پر الٹ گئی۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پورے علاقے میں افرا تفری مچ گئی اور لوگ جان بچانے کے لئے سڑکوں پر نکل آئے۔
حادثہ کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کے اعلیٰ افسران اور جوانوں نے فوری طور پر جائے وقوعہ کا رخ کیا۔ ملبے تلے ۳؍ مکینوں کے دبے ہونے کی تصدیق ہوتے ہی امدادی ٹیموں نے انتہائی احتیاط کے ساتھ ہنگامی بنیادوں پر ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا۔ فائر بریگیڈ اہلکاروں کی انتھک جدوجہد رنگ لائی اور ملبے کے نیچے پھنسے تینوں شہریوں کو بحفاظت زندہ نکال لیا گیا۔ خوش قسمتی سے اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
عیاں رہے کہ شہر میں مخدوش عمارتوں کا یہ بحران چند دنوں کا نہیں بلکہ دہائیوں پرانا ہے۔لگ بھگ ۳؍دہائی قبل شہر میں بلڈر اور انتظامیہ کی مبینہ ملی بھگت سے بغیر کسی قانونی اجازت کے بڑے پیمانے پر غیر قانونی عمارتیں کھڑی کی گئی تھیں جن میں انتہائی ناقص معیار کا مٹیریل استعمال کیا گیا تھا۔ ماضی میں میونسپل کارپوریشن نے ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے چھتوں کو توڑ دیا تھالیکن بعض مالکان نے دوبارہ غیر قانونی طور پر مرمت کر کے ان کا استعمال جاری رکھا جو وقتاً فوقتاً حادثات کا سبب بنتے رہے ہیں۔حال ہی میں ان عمارتوں کو باقاعدہ کرنے کی قواعد بھی شروع ہوئی تھی لیکن خطرناک عمارتوں کا خطرہ جوں کا توں برقرار ہے۔