’’چیئرمین کو استعفیٰ دینا ہی ہوگا‘‘ اور ’’جھکیں گے نہیں لڑیں گے‘‘کے نعرے بلند،امیدوار، اساتذہ کی قیادت میں نکلے مارچ میں سیاسی لیڈران بھی شریک ہوئے۔
EPAPER
Updated: September 08, 2026, 1:00 PM IST | Agency | Pune
’’چیئرمین کو استعفیٰ دینا ہی ہوگا‘‘ اور ’’جھکیں گے نہیں لڑیں گے‘‘کے نعرے بلند،امیدوار، اساتذہ کی قیادت میں نکلے مارچ میں سیاسی لیڈران بھی شریک ہوئے۔
مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (ایم پی ایس سی) کے امیدواروں نے پیر کے روز پونے میں زبردست احتجاج کیا۔ امیدواروں نے بڑی تعداد میں سڑک پر اتر کر بھرتی امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے مبینہ پیپر لیک، جوابی پرچوں کی جانچ میں غلطیوں اور دیگر بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے شنی وار پیٹھ میں اومکاریشور مندر چوک سے پونے ڈسٹرکٹ کلکٹریٹ تک مارچ کیا۔ ’’چیئرمین کو استعفیٰ دینا ہی ہوگا‘‘ اور ’’جھکیں گے نہیں لڑیں گے‘‘ جیسے نعروں سے ضلع کلکٹر کے دفتر کا علاقہ گونج اٹھا۔
یہ بھی پڑھئے:’’اراکین پارلیمان کیلئے کثیر منزلہ عمارتیں اورطلبہ بے گھر‘‘
قابل ذکر ہے کہ اس مارچ میں این سی پی شردپوار کی کارگزار صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سُلے،رکن اسمبلی روہت پوار، کانگریس لیڈر ڈاکٹر وشوجیت سمیت طلبہ اور اساتذہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پونے کلکٹریٹ کے دفتر کے باہر سیکڑوں امیدواروں نے ریاستی پبلک کمیشن کے کام کاج اور مسابقتی امتحانات کے انعقاد سے متعلق کئی مطالبات پیش کیے۔ انہوں نے ایم پی ایس سی کے چیئرمین وویک بھیمَنوار اور سیکریٹری کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن میں ’’صاف شبیہ‘‘ رکھنے والے افسران کو مقرر کیا جائے۔
کس نے کیا کہا؟
کانگریس لیڈر ڈاکٹر وشوجیت کدم نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے یقین دلایا کہ جب تک طلبہ کو انصاف نہیں مل جاتا، اپوزیشن پارٹیاں ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی رہیں گی۔ یوتھ کانگریس کے ریاستی صدر شیوراج مورے نےکہا کہ نوجوانوں کا خون چوسنے والے نظام کے خلاف جھکیں گے نہیں، لڑیں گے اور جیتیں گے۔‘‘ طلبہ کے نمائندوں رشی کیش گانگورڈے اور نتین آندھلے نے خبردار کیا، ’’پہلے اراکین اسمبلی کو توڑتے تھے، اب پیپر توڑ رہے ہیں۔ استعفیٰ لیے بغیر ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘ اساتذہ کے نمائندوں سچن ڈھولے، کانگلے سر اور دَھانگے سر نے گروپ بی، گروپ سی، زرعی بھری اور پی ایم سی بھرتی میں مبینہ گھوٹالوں کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے پورے معاملے کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے:سیمی کنڈکٹر شعبے میں ہندوستان کی نئی حکمت عملی،’انجینئر اِن انڈیا‘ کی طرف قدم
ایم پی ایس سی کا موقف
ایم پی ایس سی کے چیئرمین وویک بھیمَنوار نے اپنے استعفے کے مطالبے کو مسترد کیا اورکہا ہے کہ ڈرگ انسپکٹر امتحان کا پیپر لیک اس وقت ہوا تھا جب انہوں نے کمیشن کا عہدہ سنبھالا بھی نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایم پی ایس سی نے ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات تجویز کرنے کی غرض سے ایک داخلی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے، جبکہ ریاستی حکومت نے بھی بھرتی کے امتحانات کے نظام کا جائزہ لینے اور اسے بہتر بنانے کیلئے الگ کمیٹی قائم کی ہے۔
ایم پی ایس سی امتحانات کی تیاری کرنیوالے امیدواروں کے مطالبات کیا ہیں؟
ڈرگ انسپکٹر(گروپ بی ) امتحان سے متعلق اعتراضات کا جواب دیا جائے
مذکورہ بالا امتحان میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات ۸؍دن میں مکمل کرائی جائے۔
n ۲۰۲۵ء کے اسٹیٹ سروسیز مین اور ایگریکلچر سروسیز امتحانات کے جوابی پرچوں کی جانچ میں مبینہ غلطیوں کی تفتیش ہو
ممبئی کرائم برانچ کی ایم پی ایس سی کو پیش کی گئی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کو عوام کے سامنے لایا جائے۔
امیدواروں نے گرفتارایم پی ایس سی کے انڈر سیکریٹری ابھجیت لِنڈے کی مدت کار میں منعقد ہونے والے تمام امتحانات کا فارینسک آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ابھیجیت لِنڈے کے سروس ریکارڈ اور ترقی کے معیار کے ساتھ ساتھ گرفتار کیے گئے ۲؍ اسسٹنٹ سیکشن افسران، وشویشور دتاتریہ نَکاتے اور گوپال بھٹو مارٹھے، کے سروس ریکارڈ اور پروموشن کے معیار کی بھی جانچ کی جائے۔
دیگر مطالبات میں مبینہ طور پر ملزمین کے رابطوں کے ذریعے منتخب کیے گئے امیدواروں کے کال ڈیٹیل ریکارڈ(سی ڈی آر)کی جانچ، درمیانی کردار ادا کرنے والے افراد کے ممکنہ کردار کی تحقیقات، اور مشتبہ نتائج سمیت ان دیگر امتحانات کی آزادانہ تحقیقات شامل ہیں جن کے بارے میں طلبہ نے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
مظاہرین نے۲۵؍ اکتوبر۲۰۲۶ء کو ہونے والے گروپ سی پریلمز امتحان میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اسٹینوگرافر کی پوسٹ دوبارہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔