امورِ صارفین کے محکمے نے لیگل میٹرولوجی ایکٹ ۲۰۰۹ء کے تحت پہلی بار ضابطے یا ریگولیٹری قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کاروباریوں کے لیے `اصلاحی نوٹس کا نظام نافذ کیا ہے۔
EPAPER
Updated: June 29, 2026, 8:17 PM IST | New Delhi
امورِ صارفین کے محکمے نے لیگل میٹرولوجی ایکٹ ۲۰۰۹ء کے تحت پہلی بار ضابطے یا ریگولیٹری قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کاروباریوں کے لیے `اصلاحی نوٹس کا نظام نافذ کیا ہے۔
امورِ صارفین کے محکمے نے لیگل میٹرولوجی ایکٹ ۲۰۰۹ء کے تحت پہلی بار ضابطے یا ریگولیٹری قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کاروباریوں کے لیے `اصلاحی نوٹس کا نظام نافذ کیا ہے۔ سرکاری اطلاع کے مطابق، جن وشواس (ترمیمی دفعات) ایکٹ ۲۰۲۶ء کے تحت نافذ اس نظام میں متعلقہ اداروں کو تادیبی کارروائی سے پہلے اپنی خامیاں دور کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:’’آوارہ پن ۲‘‘کا ٹیزر جاری: عمران ہاشمی کے زبردست مکالمے نے سب کو دنگ کر دیا
حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے کاروبار کرنے میں آسانی بڑھے گی، رضا کارانہ تعمیل کی حوصلہ افزائی ہوگی اور غیر ضروری مقدمہ بازی میں کمی آئے گی۔ یہ نظام مینوفیکچرر، امپورٹر، پیکر، ڈیلر، مرمت کار، تاجر اور مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) سمیت دیگر ریگولیٹڈ اداروں پر لاگو ہوگا۔
اطلاع میں کہا گیا ہے کہ مقررہ وقت کے اندر کمی دور کرنے پر تادیبی کارروائی سے بچا جا سکے گا، تاہم بار بار قانون کی خلاف ورزی، فریب دہی، چھیڑ چھاڑ یا صارفین کے مفادات کو متاثر کرنے والے معاملات میں پہلے کی طرح سخت کارروائی جاری رہے گی اور صارفین کے تحفظ سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
محکمے کے مطابق، اصلاحی نوٹس کے نظام کا مقصد رضا کارانہ تعمیل کو فروغ دینا، تعمیلی لاگت کو کم کرنا، ریگولیٹری شفافیت اور یقین کو بڑھانا نیز نفاذ کرنے والی ایجنسیوں کی توجہ سنگین اور جان بوجھ کر کی گئی خلاف ورزیوں پر مرکوز کرنا ہے۔ یہ نظام رجسٹریشن، دستاویزات کی دیکھ بھال، ماڈل کی منظوری، باٹ اور ماپ (وزن اور پیمائش) کی تیاری، فروخت، مرمت، درآمد اور پیکٹ بند اشیاء سے جڑے پہلی بار کے ضابطہ جاتی عدم تعمیل پر لاگو ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:بغیر اسٹار کھلاڑی کے برازیل کو مات دینے کا جاپانی مشن
حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ نظام صرف پہلی بار ہونے والی مخصوص ضابطہ جاتی اور ریگولیٹری خلاف ورزیوں تک محدود ہے اور اس سے صارفین کے تحفظ یا لیگل میٹرولوجی ایکٹ کے تحت نفاذ کا نظام متاثر نہیں ہوگا۔ حکومت کے مطابق یہ پہل ’کم از کم گورنمنٹ ، زیادہ سے زیادہ گورننس‘ کے نقطہ نظر کے عین مطابق اعتماد پر مبنی اور کاروبار دوست ریگولیٹری نظام کو فروغ دینے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔