نندی گرام میں مرکزی فورسز کی۳۷؍ کمپنیاں اور۷۰۰؍ ریاستی پولیس اہلکار تعینات، ریجی نگر میں بھی بی جے پی لیڈروں کا ڈیرہ، تمل ناڈو ، پڈوچیری اور آسام میں بھی ضمنی انتخابات۔
EPAPER
Updated: October 06, 2026, 12:05 PM IST | Agency | New Delhi
نندی گرام میں مرکزی فورسز کی۳۷؍ کمپنیاں اور۷۰۰؍ ریاستی پولیس اہلکار تعینات، ریجی نگر میں بھی بی جے پی لیڈروں کا ڈیرہ، تمل ناڈو ، پڈوچیری اور آسام میں بھی ضمنی انتخابات۔
مغربی بنگال کی ۲؍ اسمبلی سیٹوں، تمل ناڈو کی۲؍، پڈوچیری کی ایک اور آسام کی ناگون لوک سبھا سیٹ پر۶؍ اکتوبر کو ضمنی انتخابات ہونے والے ہیں۔ نتائج کا اعلان۹؍ اکتوبر کو کیا جائے گا۔ اگرچہ انتخابی نتائج کسی بھی حکومت کے مستقبل کا تعین نہیں کریں گے، لیکن وہ یقینی طور پر اسمبلی انتخابات کے بعد بدلتی ہوئی سیاسی مساوات اور زمین پر سیاسی اثر و رسوخ کی ایک جھلک ضرور فراہم کریں گے۔ ان میں مغربی بنگال کی نندی گرام سیٹ کو سب سے زیادہ قریب سے دیکھا جارہا ہے۔ اس نشست پر صرف بنگال کی نہیں بلکہ پورے ملک کی نگاہیں۔ یہ وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری کی روایتی نشست ہے۔ انہوں نے۲۰۲۱ء میں اس سیٹ سے سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو شکست دی تھی۔بی جے پی اس سیٹ کو کسی بھی صورت میں جیتنے کی کوشش کرے گی۔یہاں نندی گرام میں ہونے والے ضمنی انتخاب کیلئے مرکزی فورسز کی۳۷؍ کمپنیاں اور ریاستی پولیس کے تقریباً۷۰۰؍ اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ریجی نگر کی سیٹ ہمایوں کبیر کے استعفیٰ دینے سے خالی ہوئی ہے۔ وہاں پر اُن کے بیٹے غلام نبی آزاد الیکشن لڑ رہے ہیں۔ بی جے پی اس سیٹ پر بھی قبضہ کرنے کی پوری پوری کوشش کررہی ہے۔ہمایوں کبیر نے۲۰۲۶ء کے اسمبلی انتخابات میں ریجی نگر اور نودا سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:کلیان: ڈپٹی اسٹیشن ماسٹر پر ریلوے ملازمہ سے بدسلوکی کا الزام
نندی گرام میں کانگریس کے امیدوارامیدوار ملن پردھان، جنہیں ترنمول کانگریس کی بھی حمایت حاصل ہے، عوام سے براہ راست ملتے ہیں اور انہیں۲۰۰۷ء کی نندی گرام تحریک کی یاد دلاتے ہیں۔ خیال رہے کہ اُس وقت زمین پر قبضے کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ سے۱۴؍ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اُس واقعے نے بائیں بازو کی ۳۴؍سالہ حکمرانی کے خاتمے اور ممتا بنرجی کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کی تھی۔ یہ تحریک بنگال کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت تھی۔ بی جے پی نے یہاں پر وزیراعلیٰ شوبھندو ادھیکاری کے معاون چندر ناتھ کی ماں ہنسی رانی رتھ کو میدان میں اتارا ہے۔ چندرناتھ کو ۶؍مئی کو گولی ماردی گئی تھی۔
تمل ناڈو میںمدورنت کم اور دھاراپورم اسمبلی سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی۔ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد وجے تھلاپتی کا یہ پہلا امتحان ہے۔ ’اے آئی اے ڈی ایم کے‘ نے اپریل،مئی کے اسمبلی انتخابات میں دونوں سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ انتخابات جیتنے والے دونوں ایم ایل ایز نے استعفیٰ دے کر’ٹی وی کے‘ میں شمولیت اختیار کرلی تھی جس کی وجہ سے یہاں پر انتخابات ہو رہے ہیں۔ وجے نے انہی دونوں کو میدان میں اتارا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:نیدرلینڈز: حکومت اسکولوں میں موبائل فون پر پابندی عائد کرنے کے اقدام پر غور کر رہی ہے
دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت میں وجے کی حمایت کرنے والی بائیں بازو کی جماعتوں سی پی آئی اور سی پی ایم نے دونوں ہی سیٹوں پر امیدوار کھڑے کئے ہیں اور انتخابی مہموں میں وہ وجے کے خلاف بول بھی رہے ہیں۔
پڈوچیری میںتھٹانچاواڑی سیٹ آل انڈیا این آر کانگریس (اے آئی این آر سی) کے بانی اور وزیر اعلیٰ این رنگاسامی کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی تھی۔ رنگاسامی نے اسمبلی انتخابات میں ۲؍ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ رنگاسامی۱۹۹۱ء سے اس سیٹ سے مسلسل جیت رہے تھے۔ ان کی جگہ سابق ایم ایل اے اشوک آنند الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ’اے آئی این آر سی‘ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے کا حصہ ہے۔
ناگاؤں سے مولانا بدرالدین اجمل امیدوار
ضمنی انتخابات میں ایک سیٹ لوک سبھا کی ہے جو آسام کا ناگاؤں حلقہ ہے۔ یہاں پر بی جے پی، کانگریس اور یو ڈی ایف میں مقابلہ ہے۔یوڈی ایف سے پارٹی سربراہ مولانا بدرالدین اجمل خود امیدوار ہیں۔۲۰۱۹ء اور ۲۰۲۴ء میں اس سیٹ پر کانگریس کے پردیوت بوردولوئی ایم پی منتخب ہوئے تھے۔ مارچ میں وہ بی جے پی میں چلے گئے۔ اسی وجہ سے یہ سیٹ خالی ہوئی ہے۔ کانگریس نے یہاں سے شیبا مونی بورا کو امیدوار بنایا ہے جبکہ بی جے پی نے سابق آئی اے ایس افسر دیبا شیش شرما کو ٹکٹ دیا ہے۔ یہاں ۱۸؍ لاکھ رائے دہندگان میں ۱۱؍ لاکھ مسلم ہیں۔