Updated: October 06, 2026, 10:33 AM IST
| Amsterdam
ڈچ کابینہ کے پاس فی الحال اس سلسلے میں ملک گیر پابندی عائد کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے لیکن وہ تعلیمی شعبے کیلئے سفارشات جاری کر سکتی ہے۔ یہ تجویز بچوں کو ضرورت سے زیادہ اور ممکنہ طور پر نقصان دہ آن لائن سرگرمیوں سے جڑے خطرات سے بچانے کی ایک وسیع تر حکومتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ حکام نے متنبہ کیا کہ لت لگانے والے الگورتھمز، خودکار چلنے والے (آٹو پلے) ویڈیوز اور سوشل میڈیا کی وجہ سے نوجوانوں کیلئے اسکرین ٹائم کو کم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، نیدرلینڈز کی کابینہ نے پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسکول کے اوقات کے دوران طلبہ کے موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی عائد کریں۔ یکم جنوری ۲۰۲۷ء سے نافذ العمل ہونے والے اس مجوزہ اقدام کے تحت طلبہ کو کلاس روم کے اوقات، اسمبلیوں، وقفوں اور اسکول کے احاطے میں موجود دیگر تمام اوقات کے دوران فون کو خود سے دور رکھنے کا پابند کیا جائے گا۔
ڈچ کابینہ کے پاس فی الحال اس سلسلے میں ملک گیر پابندی عائد کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے لیکن وہ تعلیمی شعبے کیلئے سفارشات جاری کر سکتی ہے۔ یہ تجویز بچوں کو ضرورت سے زیادہ اور ممکنہ طور پر نقصان دہ آن لائن سرگرمیوں سے جڑے خطرات سے بچانے کی ایک وسیع تر حکومتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ حکام نے متنبہ کیا کہ لت لگانے والے الگورتھمز، خودکار چلنے والے (آٹو پلے) ویڈیوز اور سوشل میڈیا کی وجہ سے نوجوانوں کیلئے اسکرین ٹائم کو کم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ حکومت اس سے قبل ۲۰۲۴ء میں اسباق کے دوران فون کے استعمال کو محدود کرنے کے حوالے سے قومی معاہدوں پر پہنچ چکی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے مختلف ممالک میں مظاہرے
اسکول میں موبائل پر پابندی کی تجویز کے ساتھ ساتھ، ڈچ کابینہ بچوں کے آن لائن تحفظ کیلئے مزید سخت اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ان میں سوشل میڈیا تک رسائی کیلئے کم از کم عمر کی ممکنہ حد کا تعین بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ یورپی کمیشن سوشل میڈیا تک رسائی کیلئے کم از کم ۱۳ سال کی عمر کی حد پر غور کر رہا ہے، ڈچ حکومت نے کم از کم عمر ۱۵ سال کی کم از کم عمر کی حد مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔
ڈچ حکومت فیملی ولاگرز اور چائلڈ انفلوئنسرز کیلئے بھی سخت قواعد تیار کر رہی ہے۔ مجوزہ قوانین کے تحت، ۱۵ سال سے کم عمر بچوں کے ذریعے تیار کردہ آن لائن مواد کو چائلڈ لیبر (بچوں سے مشقت) کے زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے اور اسے سزاؤں اور جرمانوں کا تابع بنایا جا سکتا ہے۔