سی اے اے اوراین آرسی ہندو مسلم کا نہیں سنویدھان کے تحفظ کا مسئلہ ہے

Updated: January 12, 2020, 11:45 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mira Road

بھائندر سے میرا روڈ اسٹیشن تک بہوجن کرانتی مورچہ کی جانب سے مقامی تنظیموں اور مسلم نوجوانوں کے اشتراک سے ریلی نکالی گئی۔ مل جل کرکام کرنے کی غرض سے میٹنگوں کا بھی انعقاد کیا گیا۔

شہریت ترمیمی قانون کیخلاف میرا روڈ میں احتجاج ۔ تصویر : انقلاب
شہریت ترمیمی قانون کیخلاف میرا روڈ میں احتجاج ۔ تصویر : انقلاب

میرا روڈ : شہریت ترمیمی ایکٹ ،این آر سی اوراین پی آرکو محض مسلمانوں کا مسئلہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے اورایسا رخ دیا جارہا ہے کہ اس کی مخالفت محض مسلمان ہی کررہے ہیں جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ برادران وطن کی بڑی تعداد بھی اسے آئین مخالف قرار دیتے ہوئے مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں بہوجن کرانتی مورچہ کی جانب سےممبئی ہی نہیں ریاستی سطح پراحتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور سی اے اے اوراین آرسی کو واپس لینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ 
 سنیچر کوبہوجن کرانتی مورچہ کی جانب سے بھائندر ریلوے اسٹیشن کے قریب سے میرا روڈ اسٹیشن تک ریلی نکالی گئی۔ اس ریلی میں میراروڈ کی مقامی تنظیموں کے ذمہ داران ،سماجی خدمت گار اورنوجوان بھی پیش پیش تھے ۔ یہ ریلی لودھا کمپلیکس ،نیا نگر وغیرہ علاقوں سے گزرتی ہوئی میرا روڈ اسٹیشن پرمغرب کے وقت ختم ہوئی ۔ شرکاء جو بینرس لے کرچل رہے تھے ان پربہوجن کرانتی مورچہ کی جانب سے ممبئی اور ریاستی سطح پراس سیاہ قانون کے خلاف مظاہروںکی فہرست کے ساتھ ۲۹؍جنوری کو’بھارت بند‘ کو بھی نمایاں کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ مظاہرین مودی سرکارہائے ہا ئے کے نعرے بھی بلند کرر ہے تھے۔ 
یہ ہندومسلمان کا نہیں سمودھان کا مسئلہ ہے 
 ایڈوکیٹ سچن سالوی نے کہا کہ ’’ یہ ہندو مسلمان کا مسئلہ نہیں بلکہ بابا صاحب امبیڈکر کے بنائے ہوئے سنویدھان سے چھیڑچھاڑ کا سوال ہے اوراس کے ذریعہ خاص طور پرپسماندہ ذات برادریوں کو نشانہ بنانے اوران کے حقوق چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے ۔اس لئے ہرہندوستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کالے قانون کی مخالفت کرے ۔‘‘ کمل مینائی (راشٹریہ امن منچ) نے کہاکہ ’’سی اے اے کے ذریعہ حکومت شہریت نہیں دی رہی ہے بلکہ وہ آئین میں تمام ہندوستانیوں کے حقوق کی ضمانت کی بنیادوں کو کھوکھلا کررہی ہے۔اس لئے ہمیں یہ قانون ہرگزمنظور نہیں ہےاوراس کی مخالفت جاری رہے گی ۔‘‘
 ارجن پوار نے کہاکہ ’’ ہم سب باباصاحب کے سنویدھان کے ماننے والے ہی نہیں بلکہ اس کی حفاظت کرنے والے بھی ہیں اورہم لوگ یہ بھی سمجھ چکے ہیںکہ سی اے اے کی آڑ میں حکومت کیا کھیل کھیلنا چاہتی ہے اس لئے ہمارا یہ ا حتجاج جاری رہے گا ۔‘‘ 
 ڈاکٹرعظیم الدین نے کہا کہ ’’ ہندوستان کے عوام بیدار ہوچکے ہیں اوروہ حکومت کا مقصد سمجھ رہے  ہیں اس لئے یہ کالا قانون واپس لینا ہی ہوگا۔‘‘ ایڈوکیٹ شہود انور نے کہاکہ ’’ یہ قانون آ ئین کے مختلف آرٹیکل کوراست طور پرمتاثرکرتا ہے اوریہ دستورِ ہند کی تمہیدکے بھی خلاف ہے ،اس لئے حکومت آئین میںترمیم کی غلطی کرنے سے باز آئے ۔‘‘ سیلیش انسورکر نے کہاکہ ’’حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے سی اے اے اوراین آرسی کے نام پرشہریوں کو پریشان کررہی ہے لیکن اسے عوام کی طاقت کو ہمیشہ یاد رکھناچاہئے ۔‘‘
مل جل کرکام کرنے کے لئےمیٹنگیں
 میراروڈ میں سنیچر کی شام کو میکسس مال کی بالائی منزل پردلت تنظیموں اورمسلم ذمہ داران کی میٹنگ ہوئی اس میں عوامی نمائندوں کوبھی مدعو کیا گیا ۔ اس میٹنگ کا مقصد یہ بتایا گیا کہ سی اے اے ، این آرسی اوراین پی آرانتہائی اہم مسئلہ ہے اورحکومت کے رویہ سے ایسا لگتا ہے کہ اس کے خلاف لمبی لڑائی لڑنی ہوگی ۔اس لئے آئین کی حفاظت کیلئے تمام ذات برادریوں کو مل جل کرآگے بڑھنا ہوگا ۔
 اسی حوالے سے دوسری میٹنگ میرا روڈ کی بلال مسجد میں منعقد کی گئی جس میں ان مسائل کے تعلق سے بات چیت کی گئی اورخاص طور پریہ طے پایا کہ ۱۳؍جنوری کو بانیگر ہائی اسکول (میرا روڈ) میں مختلف جماعتوں ،تنظیموں اورسیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی جومشترکہ میٹنگ بلائی گئی ہے اس میں آئندہ کیلئے ٹھوس عمل کوحتمی شکل دی جاسکے ۔ یہ تفصیلات ڈاکٹرعظیم الدین نے بتائیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK