Inquilab Logo Happiest Places to Work

’اگر مدارس میں وندے ماترم گایا جائے تو کوئی قیامت نہیں آ جائے گی‘: کلکتہ ہائی کورٹ

Updated: August 05, 2026, 8:04 PM IST | Kolkata

درخواست گزاروں نے دلیل دی کہ اگرچہ وندے ماترم ہندوستان کا قومی گیت ہے لیکن اسے قومی ترانے جیسا آئینی درجہ حاصل نہیں ہے، اس لئے اسے لازمی نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ مدارس میں پڑھنے والے بچوں کو اسے گانے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہئے۔

Calcutta High Court. Photo: INN
کلکتہ ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

کلکتہ ہائی کورٹ نے منگل کے روز ایک مفاد عامہ کی عرضداشت پر سماعت کے دوران زبانی طور پر مشاہدہ کیا کہ اگر مدارس میں وندے ماترم کے تمام چھ کے چھ بند گائے جائیں تو ”کوئی قیامت نہیں آ جائے گی۔“ اس عرضداشت میں مغربی بنگال حکومت کے ایک نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا گیا تھا جس کے تحت مدارس میں مکمل قومی گیت گانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

قائم مقام چیف جسٹس تپابرتا چکرورتی اور جسٹس پارتھ سارتھی سین پر مشتمل بنچ نے اس شرط کے خلاف اٹھائے گئے مذہبی اعتراضات پر غور کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔ قائم مقام چیف جسٹس نے زبانی طور پر کہا کہ ”کوئی قیامت نہیں آ جائے گی... اگر آج مجھ سے کوئی ایسا جملہ ادا کرنے کو کہا جائے جو میرے مذہب میں نہیں ہے... تو کیا ہوگا؟ کیا میں اس مذہب سے باہر کا فرد بن جاؤں گا؟“ بنچ نے عیسائیوں کے زیرِ انتظام تعلیمی اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے طلبہ اکثر ایسے اسکولوں میں کی جانے والی دعاؤں میں حصہ لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: یوپی مدرسہ بورڈ ایکٹ میں ترمیم پر کابینہ کی مہر، ’کامل‘ اور ’فاضل‘ کی اسناد پر خطرے کی تلوار

درخواست گزاروں نے دلیل دی کہ اگرچہ وندے ماترم ہندوستان کا قومی گیت ہے لیکن اسے قومی ترانے جیسا آئینی درجہ حاصل نہیں ہے، اس لئے اسے لازمی نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ مدارس میں پڑھنے والے بچوں کو اسے گانے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہئے۔ مسلم تنظیموں اور علماء نے خاص طور پر وندے ماترم کے بعد کے بندوں پر اعتراض کیا ہے، جو ہندو مذہبی استعاروں اور تصویروں کے ذریعے وطن کا تصور پیش کرتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ان کے اعتراضات اسلام کے توحیدی عقائد پر مبنی ہیں اور انہیں حبّ الوطنی کی کمی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے۔

سماعت کے دوران، عدالت نے سوال کیا کہ کیا نوٹیفکیشن کی تعمیل نہ کرنے پر اب تک مدارس کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کی گئی ہے؟ بنچ نے کہا کہ اگر عدم تعمیل کی وجہ سے کسی کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہو تو اجباری نفاذ کے دعوے کی جانچ کی جا سکتی ہے۔ ریاست کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل دھیرج کمار ترویدی نے حکومت کا موقف واضح کرنے کیلئے حلف نامہ داخل کرنے کی مہلت مانگی۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ درخواست محض اندیشوں پر مبنی ہے اور ابھی تک کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ عدالت نے ریاست کو اپنا جواب آن ریکارڈ لانے کی اجازت دیتے ہوئے معاملے کی سماعت ملتوی کر دی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK