آئی بی ایم کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ڈیٹا کی خلاف ورزی کی اوسط لاگت ۱۶؍ فیصد بڑھ ۲۵؍ اعشاریہ ۵؍ کروڑ روپئے ہوگئی، یہ اوسط اب تک کی اعلیٰ ترین لاگت ہے۔
EPAPER
Updated: August 05, 2026, 8:04 PM IST | New Delhi
آئی بی ایم کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ڈیٹا کی خلاف ورزی کی اوسط لاگت ۱۶؍ فیصد بڑھ ۲۵؍ اعشاریہ ۵؍ کروڑ روپئے ہوگئی، یہ اوسط اب تک کی اعلیٰ ترین لاگت ہے۔
آئی بی ایم کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ڈیٹا کی خلاف ورزی کا حجم بڑھ رہا ہے، جس میں ۲۰۲۶ ءمیں اوسطاً ۳۹۵۰۰؍ ریکارڈ سے سمجھوتہ کیا گیا، جبکہ ۲۰۲۵ء میں یہ تعداد ۳۸۲۰۰؍ تھی۔عالمی ٹیک فرم کے مطابق ۲۵؍ کروڑ ۵۰؍ لاکھ روپے ڈیٹا کی خلاف ورزی کی اب تک کی سب سے زیادہ اوسط لاگت ہے۔ بعد ازاں آئی بی ایم انڈیا اور ساؤتھ ایشیا کے ٹیکنالوجی کے نائب صدر گورو اگروال نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کو اپنانا سائبر خطرات کو تیزی سے تبدیل کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایجنٹک صلاحیتوں کے حامل اے آئی کو سیکیورٹی کے مکمل دورانیے میں شامل کیا جانا چاہیے، جس کا دائرہ دریافت اور تجزیہ سے لے کر ترجیح اور تدارک تک ہونا چاہیے۔ کاروباروں کیلئے لچک پیدا کرنے اور مسابقتی برتری حاصل کرنے کیلئے یہ ایک اسٹریٹجک ضرورت ہونی چاہیے۔‘‘
رپورٹ میں کہا گیا کہ جن تنظیموں نے سیکیورٹی آپریشنز میںاے آئی اور آٹومیشن کا استعمال نہیں کیا، انہیں فی خلاف ورزی اوسطاً ۳۱؍کروڑ ۶۰؍ لاکھ روپے ادا کرنے پڑے، جبکہ وسیع استعمال والی تنظیموں کو ۲۱؍کروڑ ۳۰؍ لاکھ اور محدود استعمال والی تنظیموں کو ایک کروڑ ۳۳؍ لاکھ روپے ادا کرنے پڑے۔
یہ بھی پڑھئے: مارک زکربرگ نے ہندوستانی حکومت سے معافی مانگ لی
ڈیٹا کی خلاف ورزی کیا ہے؟
ڈیٹا کی خلاف ورزی کا مطلب ہے جب کسی کمپنی، ادارے یا فرد کا حساس ڈیٹا غیر قانونیطریقے سے چوری ہو جائے، لیک ہو جائے یا اس تک غیر قانونی رسائی حاصل کر لی جائے۔ جبکہ ڈیٹا میں نام، فون نمبر، ای میل، پاس ورڈ، کریڈٹ کارڈ کی معلومات، شناختی کارڈ، میڈیکل ریکارڈ، کمپنی کے خفیہ دستاویزات وغیرہ شامل ہیں۔واضح رہے کہ ڈیٹا کی خلاف ورزی کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، ان میں ہیکنگ، فشنگ ای میل، کمزور پاس ورڈ، اندرونی ملازم کی غلطی، سسٹم کی سیکیورٹی میں خامی عام وجوہات ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غیر ملکی کمپنیوں کیلئے ٹیکس میں رعایت کا دائرہ مزید وسیع ہوگا
جبکہ اس کی خلاف ورزی کی صورت میں فورنسک جانچ، سسٹم ٹھیک کرنا، سائبر سیکیورٹی بہتر بنانا، متاثرہ لوگوں کو مطلع کرنا،جرمانے ادا کرنے میں خرچ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ فورنسک انویسٹی گیشن، سسٹم ٹھیک کرنا، سائبر سیکیورٹی بہتر بنانا، متاثرہ لوگوں کو مطلع کرناجرمانےمقدمے، وکیل کی فیس، معاوضہ بالواسطہ لاگت ،ساکھ کا نقصان، گاہکوں کا اعتماد جانا، کاروبار میں کمی جیسے نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔یاد رہے کہ چھوٹی کمپنیوں کے لیے بھی لاگت لاکھوں میں جا سکتی ہے اور کئی چھوٹے کاروبار ایک بڑی خلاف ورزی کے بعد بند بھی ہو جاتے ہیں۔