Updated: August 05, 2026, 8:02 PM IST
| New Delhi
وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر سے متعلق ویڈیو کو فیس بک سے عارضی طور پر ہٹائے جانے کے معاملے پر ہندوستانی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے میٹا کے چیف ایگزیکٹیوآفیسرمارک زکربرگ کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ تین دن کے اندر غیر مشروط معافی نہیں مانگتے تو کمپنی کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
میٹا اور نریندر مودی۔ تصویر:آئی این این
وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر سے متعلق ویڈیو کو فیس بک سے عارضی طور پر ہٹائے جانے کے معاملے پر ہندوستانی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے میٹا کے چیف ایگزیکٹیوآفیسرمارک زکربرگ کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ تین دن کے اندر غیر مشروط معافی نہیں مانگتے تو کمپنی کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘‘ نے عالمی باکس آفس پر ایک ارب ڈالر کا سنگِ میل عبور کر لیا
سرکاری ذرائع کے مطابق پارلیمانی کمیٹی نے اس واقعے کو انتہائی سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کی سرکاری تقریر کو کئی گھنٹوں تک پلیٹ فارم سے ہٹایا جانا ناقابل قبول ہے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ میٹا اس معاملے پر عوامی سطح پر وضاحت پیش کرے اور غیر مشروط معافی مانگے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے متنبہ کیا ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر معافی نہ دی گئی تو حکومت میٹا کو بھارت میں حاصل سیف ہاربر پروٹیکشن کے معاملے پر نظرثانی کر سکتی ہے۔ اس تحفظ کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو صارفین کی پوسٹ کردہ بعض اقسام کے مواد پر محدود قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے، تاہم مقامی قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں یہ تحفظ متاثر ہو سکتا ہے۔
اس معاملے پر میٹا کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے نئی دہلی میں وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے سیکریٹری ایس کرشنن سے ملاقات بھی کی۔ ملاقات میں حکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مقامی قوانین پر سختی سے عمل درآمد، غیر قانونی مواد کے مؤثر نظم و نسق اور عوامی نمائندوں کی سرکاری معلومات سے متعلق محتاط رویہ اختیار کرنے پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھئے:’’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘‘ نے عالمی باکس آفس پر ایک ارب ڈالر کا سنگِ میل عبور کر لیا
حکام نے وزیراعظم کی پوسٹ کے حذف ہونے کے واقعہ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات عوامی اعتماد کو متاثر کرتے ہیں اور انہیں فوری طور پر درست کیا جانا چاہیے۔دوسری جانب، میٹا کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کمپنی کے پاس مواد کی نگرانی، فیکٹ چیکنگ اور حفاظتی اقدامات کا مضبوط نظام موجود ہے اور وہ اپنے پلیٹ فارمز کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق وزیراعظم کی پوسٹ کا ہٹایا جانا ایک آپریشنل یا تکنیکی خرابی تھی، نہ کہ کسی دانستہ پالیسی کا نتیجہ۔
واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب وزیراعظم نریندر مودی کا ایک ویڈیو، جس میں وہ طلبہ اور نوجوانوں سے امتحانات اور پیپر لیک کے معاملات پر خطاب کر رہے تھے، فیس بک پر تقریباً پانچ سے چھ گھنٹے تک دستیاب نہیں رہی، جس پر حکومت اور پارلیمانی کمیٹی نے سخت نوٹس لیا۔