۵۰۰؍ کروڑ روپے جرنگے کو دینے کی متنازع آڈیو کلپ کی جانچ کیلئے وزیراعلیٰ فرنویس نے ایس آئی ٹی بنانے کا حکم دیا۔
EPAPER
Updated: October 27, 2026, 3:42 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
۵۰۰؍ کروڑ روپے جرنگے کو دینے کی متنازع آڈیو کلپ کی جانچ کیلئے وزیراعلیٰ فرنویس نے ایس آئی ٹی بنانے کا حکم دیا۔
متنازع آڈیو کلپس کے معاملےمیںنیا موڑ آیا ہے۔ وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس نے آڈیو کلپس کی جانچ کیلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے اور ممبئی پولیس کمشنر کو معاملے کی جانچ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ خیال رہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے مراٹھا ریزرویشن تحریک کے لیڈر منوج جرنگے پاٹل کی جانب سے سامنے لائی گئی بعض آڈیو کلپس کافی زیر بحث ہیں۔ ان آڈیو کلپس نے ریاست کی سیاست میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ اس معاملے میں الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔
خیال رہے کہ شندے گروپ کے بعض لیڈروں نے دعویٰ کیا ہے کہ جرنگے کی جانب سے جاری کی گئی آڈیو کلپس میں بی جے پی کے لیڈروں کی آوازیں ہیں۔ دوسری جانب، بی جے پی نے وضاحت کی ہے کہ ان آڈیو کلپس سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب اسی معاملے میں وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔جانچ کے حکم کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ معاملے کی حقیقت سامنے آسکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کیا حکم دیا؟
منوج جرنگے کی جانب سے سامنے لائی گئی بعض آڈیو کلپس میںدعویٰ کیا گیا کہ یہ آن لائن میٹنگ کی گفتگو ہے، جو بی جے پی سے تعلق رکھنے والے لیڈران اور کارکنان کے درمیان ہوئی ہے، اس میںکہا گیا ہے کہ نائب وزیراعلیٰ شندے نے وزیراعلیٰ فرنویس سے ۵۰۰؍ کروڑ روپے لئے ہیں جو جرنگے کو دینے کیلئے وصول کئے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: ۸؍ماہ میں ۸۷۵؍ میں سے۸۴۶؍ گمشدہ بچیوں کو تلاش کرلیا گیا
جرنگے نے کہا کہ انہوں نے اپنی تحریک ختم کرنے یا کسی طرح کی صلح کیلئے کسی سے کوئی پیسے نہیں لئے پھر اُن کے نام پر کس نے بدعنوانی کی ہے؟ یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے ممبئی پولیس کمشنر کو ہدایت دی ہے۔ انہوں نے اس معاملے کی تحقیقات کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم(ایس آئی ٹی) تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔
بی جے پی اور شیو سینا آمنے سامنے
جرنگے کی آڈیو کلپس کے معاملے پر مہایوتی اتحاد میں شامل شیو سینا اور بی جے پی کے درمیان اختلافات سامنے آگئے ہیں۔ شیو سینا کے لیڈروں نریش مہسکے اور اُدے سامنت نے براہِ راست بی جے پی پر تنقید کی ہے۔ دوسری جانب، بی جے پی نے کہا ہے کہ اس کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پارٹی نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ متعلقہ آڈیو کلپس اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی ہوسکتی ہیں، اسلئے جانچ ضروری ہے۔ شندے شیوسینا گروپ کے لیڈروں نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرکے اس سلسلے میں ایک عرضداشت بھی پیش کی تھی۔
آڈیو کلپ کی جانچ ای ڈی یا بڑی ایجنسی سے کروائی جائے: جرنگے
منوج جرنگے پاٹل نے ایک پریس کانفرنس میںکہا کہ ، ’’اس کلپ میں بات کرنے والے لوگ آخر کون ہیں؟ اگر وزیراعلیٰ فرنویس نے اس کا سراغ نہیں لگایا تو عوام کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہوگا کہ کہیں اس معاملے میں فرنویس کا بھی ہاتھ تو نہیں تھا۔‘‘جرنگے نے مزید کہا، ’’کیا آپ ہر بات کو اے آئی قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بچ نکلیں گے؟ اس معاملے میں بی جے پی کے ہی کچھ لوگ ملوث تھے، لیکن کیا فرنویس کو اس کی جانکاری تھی یا نہیں؟‘‘جرنگے نے کہا، ’’یہ کسی ایک گروہ یا شخص کا کام نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے ایک بہت بڑا نیٹ ورک ہے۔ پیسے دے دینے کے باوجود اب متعلقہ لوگ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔کیا وہ خاتون زبردستی الزامات لگا رہی ہے؟اسلئے ای ڈی سے جانچ کروائی جائے۔‘‘