ویسٹرن اور سینٹرل ریلوے میں۶؍ماہ کے دوران ۲۰؍ ہزار سے زائد مسافروں پر کارروائی کی گئی اور لاکھوں روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔
لوکل ٹرین۔ تصویر:آئی این این
گزشتہ سال جون میں ممبرا اسٹیشن سے گزرنے والی دو ٹرینوں سے گرکر ۴؍مسافر ہلاک اور ۹؍ مسافر زخمی ہوگئے تھے ۔ اس کے پیش نظرسینٹرل اور ویسٹرن ریلوے میں خصوصی طور پر دفتری اوقات میں ٹرین کے دروازے پر کھڑے ہو کر سفرکرنے والے افراد کے خلاف ریلوے پروٹیکشن فورس نے مہم تیز کردی ہے کیونکہ ان مسافروں کی وجہ سے ٹرین میں چڑھنے والے مسافروں کو پریشانی اور دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ دونوںریلویز نےگزشتہ ۶؍ ماہ کے دوران ایسے ۲۰؍ ہزار سے زائد مسافروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ریلوےایکٹ کی دفعہ۱۴۴؍کے تحت کیس درج کیا اوران سے لاکھوں روپے جرمانہ بھی وصول کیا ہے ۔
اس مہم کے دوران ٹرینوں میں سفر کے دوران دروازے پر کھڑے ہو کرسفر کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے علاوہ سینٹرل اور ویسٹرن ریلوے نے ۷؍ ہزار سے زائد ان ہاکرس کے خلاف بھی کارروائی کی ہے جو اسٹیشنوں ، ٹرینوں اور ریلوے بریج پر مختلف کاروبار کرتے ہیں ۔اس ضمن میں سینٹرل اور ویسٹرن ریلوے نے ایسے مسافروںکے خلاف کی گئی کارروائی سے متعلق جو ریکارڈ ترتیب دیا ہے ،اس کے مطابق گزشتہ ۶؍ ماہ میں یعنی یکم جنوری تا ۲۵؍ جون ۲۰۲۶ء تک سینٹرل ریلوے میں ۱۰۳؍ مسافروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے ۔ ریلوے پروٹیکشن فورس کے جوانوں نےان کے خلاف کیس درج کیا اور ۶؍ ہزار ۹۰۰؍ روپے جرمانہ بھی وصول کیا ۔ اسی طرح سینٹرل ریلوے نے ۶؍ ہزار ۲۲۶؍ ہاکرس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے لاکھوں روپے جرمانہ وصول کیا ہے۔ بھیڑبھاڑ کے اوقات میں ٹرین کے دروازے بلاک کرنے والے ۱۵؍ ہزار ۵۷۲؍ مسافروں کے خلاف کیس درج کیا گیاہے ۔ ان سے کل ۴۰؍ لاکھ ۸۱؍ ہزار روپے جرمانہ بھی وصول کیا گیا ہے ۔ اسی طرح ریلوے اسٹیشنوں پر ٹرینوں میں یا پھر ریلوے فٹ اوور بریج پر ٹھیلہ لگانے والے غیر لائسنس یافتہ ۷؍ ہزار ۷۴۸؍ ہاکرس کے خلاف نہ صرف کیس درج کیا گیا بلکہ انہیں گرفتار بھی کیا گیا اور ۳۸؍ لاکھ ۴۱؍ ہزار روپے جرمانہ بھی وصول کیا گیا ۔مسافروں کی حفاظت کے لئے ریلوے پروٹیکشن فورس اور گورنمنٹ ریلوے پولیس نے مشترکہ طور پر یہ مہم چلائی ہے اور اسے جاری رکھا جائے گا ۔