Inquilab Logo Happiest Places to Work

کار ساز کمپنی ’’پورشے ‘‘کا ۵؍ ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان

Updated: July 28, 2026, 10:00 PM IST | Berlin

جرمن لگژری کار ساز کمپنی ’’پورشے‘‘ نے ۵؍ ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کردیا ، اس سے قبل فروری ۲۰۲۵ء میں ۳۹۰۰؍ ملازمتیں ختم کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔جرمن لگژری کار ساز کمپنی پورشے نے کمزور طلب اور سخت عالمی مقابلے کے باعث ۲۰۲۵ء تک اپنی ورک فورس میں سے تقریباً ۲۰؍ فیصد ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

Porsche.Photo:INN
پورشے۔ تصویر:آئی این این

جرمن لگژری کار ساز کمپنی ’’پورشے‘‘ نے ۵؍ ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کردیا ، اس سے قبل فروری  ۲۰۲۵ء میں ۳۹۰۰؍ ملازمتیں ختم کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔ تفصیلات کے مطابق جرمن لگژری کار ساز کمپنی پورشے نے کمزور طلب اور سخت عالمی مقابلے کے باعث  ۲۰۲۵ء تک اپنی ورک فورس میں سے تقریباً ۲۰؍ فیصد ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

یہ بھی پڑھئے:نیرج چوپڑا کامن ویلتھ گیمز کے چیلنج کے لیے بہترین فارم میں نظر آرہے ہیں


پیرنٹ کمپنی ووکس ویگن اور اس کے دیگر برانڈز میں جاری ری سٹرکچرنگ کے تحت پورشے مجموعی طور پر۹۰۰۰؍ اسامیاں ختم کرے گی۔ انتظامیہ اور لیبر نمائندوں کے درمیان مہینوں کے مذاکرات کے بعد پیر کے روز ایک نئے معاہدے کا اعلان کیا گیا، جس کے تحت مزید ۵۰۰۰؍ ملازمتیں ختم کی جائیں گی، تاہم لازمی برطرفیوں کے بجائے رضاکارانہ اسکیموں اور قدرتی ریٹائرمنٹ کا راستہ اپنایا جائے گا۔
اس سے قبل فروری ۲۰۲۵ء میں ۳۹۰۰؍ ملازمتیں ختم کرنے پر اتفاق ہوا تھا، جبکہ رواں سال سی ای او مائیکل لیٹرز نے ذیلی کمپنیوں کی بندش کے باعث مزید ۵۰۰؍ ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ واضح رہے کہ سال ۲۰۲۴ء کے اختتام پر پورشے کے ملازمین کی کل تعداد لگ بھگ۴۲۶۰۰؍ تھی۔ خیال رہے رواں سال کے آغاز میں چارج سنبھالنے والے سی ای او مائیکل لیٹرز کو پورشے کے بزنس کو سنبھالنے کا ٹاسک دیا گیا تھا کیونکہ چین کی منافع بخش مارکیٹ میں پورشے کی فروخت بری طرح گر گئی ہے اور اس کی الیکٹرک وہیکل اسٹریٹجی بھی مشکلات کا شکار ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ریان گوسلنگ نئے ’’گھوسٹ رائیڈر‘‘بنیں گے


ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کٹوتی سیلز میں ہونے والی کمی کے عین مطابق ہے۔ چونکہ چین میں فوری طور پر دوبارہ مضبوط گروتھ کی امید نہیں ہے، اس لیے لاگت کم کرنے کے لیے یہ اقدامات ناگزیر ہو چکے تھے۔ پورشے کے علاوہ دیگر جرمن کار ساز کمپنیاں جیسے مرسڈیز بینز اور بی ایم ڈبلیو بھی چینی حریفوں سے مقابلے اور بھاری ٹیرف کے باعث لاگت کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK