سونیترا پوار کو ان کے شوہرکے ساتھ مہاراشٹر اسٹیٹ بینک گھپلے اور بے نامی پراپرٹی کے کیس میں ملزم بنایا گیا تھا۔
سونیترا پوار۔ تصویر:پی ٹی آئی
سونیترا پوار مہاراشٹر کی پہلی خاتون نائب وزیر اعلیٰ بن گئی ہیں لیکن ان کے خلاف ۲۵؍ ہزار کروڑ روپے کے گھپلے کا کیس اب بھی زیر تفتیش ہے۔ انہیں ان کے آنجہانی شوہر اجیت پوار کے ساتھ ’مہاراشٹر اسٹیٹ کو آپریٹیو بینک‘ سے گھپلہ کے علاوہ ایک ہزار کروڑ روپے مالیت کی ’بے نامی جائیداد و املاک‘ کےکیس میں بھی ملزم بنایا گیا تھا لیکن انہیں اس کیس سے کلین چٹ مل چکی ہے۔
واضح رہے کہ سونیترا پوار نے گزشتہ برس لوک سبھا الیکشن میں بارامتی سے شرد پوار کی بیٹی اور اپنی نند سپریہ سُلے کے خلاف الیکشن لڑا تھا لیکن ہار گئی تھیں۔ یہ ان کا پہلا سیاسی قدم تھا جس میں وہ ناکام ہوگئی تھیں تاہم ان کی شوہر کی ہوائی جہاز حادثہ میں اچانک موت ہوجانے سے انہیں ان کی جگہ نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ دیا گیا ہے۔ بارامتی میں اجیت پوار کو لوگ پیار سے ’دادا‘ (مراٹھی میں بڑا بھائی) اور سنیترا پوار کو ’واہنی‘ (مراٹھی میں بھابھی) کہتے ہیں۔
اگرچہ وہ عثمان آباد، جو اب دھاراشیو ہوگیا ہے، کے طاقتور مراٹھی سیاسی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں لیکن انہوں نے سیاست میں دلچسپی نہیں لی تھی البتہ ان کی سماجی خدمات کی وجہ سے وہ عوام میں مقبول رہیں۔
تاہم سیاست میں آنے سے قبل ہی گھپلوں کے کیسوں میں اپنے شوہر کے ساتھ ملزمہ بنائے جانے کی وجہ سے خبروں میں رہی ہیں۔ معاشی جرائم کے شعبہ ’اکنامک آفینسس ونگ‘(ای او ڈبلیو) نے جب اجیت پوار کے خلاف ’مہاراشٹر اسٹیٹ کو آپریٹیو بینک‘ (ایم ایس سی بی) کے ساتھ ۲۵؍ ہزار کروڑ روپے کا گھپلہ کرنے کا کیس درج کیا تو اس میں ان کی اہلیہ سونیترا کو بھی ملزم بنایا گیا تھا۔ ای او ڈبلیو نے اجیت پوار اور سنیترا پوار کو اس کیس میں کلین چٹ دے دی تھی جس پر اپوزیشن نے خوب ہنگامہ کیا تھا۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے اس گھپلہ میں پوار خاندان کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا لیکن اب جبکہ انہوں نے بی جے پی سے اتحاد کرلیا ہے تو انہیں کلین چٹ دے دی گئی ہے۔
یہ کیس ۲۰۱۹ء میں ہائی کورٹ کے حکم پر درج کیا گیا تھا۔ ابتدائی ایف آئی آر کے مطابق گھپلہ یہ ہے کہ شکر کی کوآپریٹیو سوسائٹیوں، کپڑوں کی ملوں اور دیگر اداروں نے ہزاروں کروڑوں کا قرض لیا لیکن ان رقموں کو اس کام میں استعمال نہیں کیا گیا جس کیلئے قرض لیا گیا تھا بلکہ انہیں ذاتی مفاد کیلئے استعمال کیا گیا اور قرض کی رقم لوٹائی نہیں گئی۔اس معاملے میں اجیت پوار اور ان کی اہلیہ سمیت ۷۰؍ سے زائد افراد کے خلاف کیس درج کیا گیا تھا۔ اس میں کہا گیا کہ ان گھپلوں کی وجہ سے ایم ایس سی بی کو ۲۰۰۷ء سے ۲۰۱۷ء کے درمیان ۲۵؍ ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ تاہم انہیں کلین چٹ دینے کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ بینک کو کوئی مالی نقصان نہیں ہوا۔
اگرچہ ای او ڈبلیو نے انہیں اس کیس میں کلین چٹ دے دی تھی لیکن مرکزی تفتیشی ایجنسی ’ڈائریکٹوریٹ آف انفورسمنٹ‘ (ای ڈی) نے ان کے خلاف کیس ختم کرنے کی مخالفت کی تھی۔ ای ڈی کا کہنا ہے کہ اس کیس سے ان کی ’منی لانڈرنگ‘ کی تفتیش وابستہ ہے۔ ان کی مخالفت کی وجہ سے یہ معاملہ اب بھی عدالت میں التواء میں ہے۔ یہ کیس اس لئے بھی بہت اہم ہے کیونکہ اس میں کئی سیاستدانوں کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے جن میں برسراقتدار پارٹی اور اپوزیشن کے بھی لیڈر شامل ہیں۔
اس کے علاوہ سنیترا پوار کو ان کے شوہر کے ساتھ ایک ہزار کروڑ روپے کی ’بے نامی پراپرٹی‘ کے کیس میں بھی ملزمین کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا جس کی تفتیش انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کررہا تھا۔تاہم ایسے معاملات میں فیصلہ کرنے کا اختیار کھنے والی ’اتھاریٹی‘ نے انہیں کلین چٹ دے دی اور پھر اس فیصلے کو چیلنج کئے جانے پر سماعت اور فیصلے کا اختیار رکھنے والی باڈی نے بھی انہیں یہ کہتے ہوئے اس معاملے سے بری کردیا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ان بے نامی جائیداد و املاک کو خریدینے کیلئے انہوں نے پیسے دیئے تھے۔